سپریم کورٹ کالجیم کی جسٹس یشونت ورما کو الہ آباد منتقل کرنے کی سفارش

   

نئی دہلی: سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سنجیو کھنہ کی سربراہی والے کالجیم نے جسٹس یشونت ورما کی رہائش گاہ سے مبینہ طور پر ’بڑی رقم‘ برآمد کئے جانے کے بعدانہیں دہلی ہائی کورٹ سے الہ آباد ہائی کورٹ منتقل کرنے کی سفارش کی ہے ۔ جسٹس ورما کو اکتوبر 2021 میں دہلی ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا تھا۔ وہ اصل میں الہ آباد ہائی کورٹ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی سرکاری رہائش گاہ سے بڑی مقدار میں نقدی ملنے کی میڈیا رپورٹس کے بعد وہ تنازعات میں گھرے ہوئے ہیں۔ اس دوران جسٹس ورما جمعہ کو عدالت میں حاضر نہیں ہوئے اور آج صبح ان کے ملازمین نے ان کی غیر حاضری کا باضابطہ اعلان کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کی رہائش گاہ پر آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا۔ اس وقت جسٹس ورما شہر میں نہیں تھے اور ان کے اہل خانہ نے آگ لگنے کی اطلاع فائر ڈپارٹمنٹ اور پولیس کو دی۔ آگ بجھانے کے بعد، مبینہ طور پر ایک کمرے کے اندر سے ’بے حساب نقدی کا ایک بڑا ڈھیر‘ ملا۔ بتایا جاتا ہے کہ مقامی پولیس نے اپنے سینئر افسران کو مطلع کیا، جنہوں نے معاملہ اعلیٰ سرکاری افسران تک پہنچا دیا۔ یہ انکشاف بالآخر جسٹس کھنہ تک پہنچا، جنہوں نے صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیا اور سپریم کورٹ کالجیم کی میٹنگ بلائی۔ میٹنگ میں کالجیم نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ جسٹس ورما کا بغیر کسی تاخیر کے تبادلہ کیا جانا چاہیے ۔ پانچ ججوں پر مشتمل کالجیم کے کچھ ارکان کا خیال تھا کہ یہ منتقلی کافی ہے ، جب کہ دوسروں نے تشویش کا اظہار کیا کہ انہیں کسی اور ہائی کورٹ میں منتقل کرنے سے عدلیہ کی ساکھ اور عوامی اعتماد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ جسٹس ورما کو استعفیٰ دینے کے لیے کہا جانا چاہیے اور اگر وہ انکار کرتے ہیں تو پارلیمانی کارروائی کے ذریعے ممکنہ برطرفی سے پہلے اندرونی تحقیقات شروع کی جانی چاہیے ۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 1999 میں ججوں کے خلاف بد سلوکی کے الزامات سے نمٹنے کے لیے قائم کردہ داخلی طریقہ کار کے مطابق چیف جسٹس کو متعلقہ جج سے وضاحت طلب کرنے کا حق حاصل ہے ۔
اگر جواب غیر تسلی بخش ہے یا گہری تحقیقات ضروری سمجھی جاتی ہے تو چیف جسٹس انکوائری کمیٹی تشکیل دے سکتے ہیں۔ اس کمیٹی میں سپریم کورٹ کا ایک جج اور دو ہائی کورٹس کے چیف جسٹس شامل ہوں گے ۔