سکریٹریٹ سے دوری اور حلیف جماعت کو اصل اپوزیشن کا درجہ کے سی آر کا کارنامہ: پونالا لکشمیا

   

دستوری میعاد کا ایک سال مایوس کن، انکائونٹر کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ
حیدرآباد۔ 11 ڈسمبر (سیاست نیوز) سابق صدر پردیش کانگریس پونالا لکشمیا نے کہا کہ کے سی آر نے اپنی دوسری میعاد کا ایک سال مکمل کرلیا ہے۔ لیکن عوام کو کوئی راحت نہیں ملی۔ کے سی آر حکومت کے ایک سال کی تکمیل پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پونالا لکشمیا نے کہا کہ ایک سال میں حکومت کا سکریٹریٹ قائم نہیں کیا گیا۔ تلنگانہ ملک کی وہ واحد ریاست ہے جہاں چیف منسٹر سرکاری کام کاج سکریٹریٹ سے انجام نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا کہ نئے سکریٹریٹ کی تعمیر کے نام پر موجودہ عمارتوں کو منہدم کرنے کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا کام کاج سکریٹریٹ سے ہونا چاہئے لیکن تلنگانہ سکریٹریٹ سے محروم ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں اپوزیشن کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی حکومت نے اپنی حلیف جماعت کو اہم اپوزیشن کا موقف دیا ہے۔ پونالا لکشمیا نے کہا کہ حکومت کی ناکامیوں کو اجاگر کرنے سے روکنے کے لیے اپوزیشن کو کمزور کردیا گیا اور ارکان کو انحراف کے ذریعہ ٹی آر ایس میں شامل کرلیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حلیف جماعت جب اہم اپوزیشن کی کرسی پر ہو تو پھر حکومت کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ غیر جمہوری و غیر دستوری انداز میں دیگر جماعتوں کے ارکان اسمبلی کو انحراف پر مجبور کیا گیا۔ پونالا لکشمیا نے حکومت کی تمام اسکیمات میں کرپشن اور بے قاعدگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو کمزور کرتے ہوئے کے سی آر حکومت بے قاعدگیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تلنگانہ کو معاشی طور پر مستحکم ریاست کہا گیا لیکن کے سی آر نے اسے تین لاکھ کروڑ کا مقروض بنادیا ہے۔ گجویل میں چیف منسٹر کی جانب سے اپوزیشن کو عوامی مسائل پر سیاست نہ کرنے کے مشورے کو مضحکہ خیز قراردیتے ہوئے پونالا لکشمیا نے کہا کہ چیف منسٹر کے قول و فعل میں تضاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ گجویل کے دورے کے موقع پر سرکاری اجلاسوں اور چیف منسٹر کے جلسے میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندوں کو مدعو نہیں کیا گیا۔ کے سی آر صرف زبانی باتوں کے ذریعہ عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔ اگر حقیقی معنوں میں سیاست سے بالاتر رہنا ہے تو پھر اپوزیشن کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے انتخابی حلقے گجویل میں کئی بنیادی مسائل ہیں۔ خواتین پر مظالم اور قتل کے واقعات میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے پونالا لکشمیا نے کہا کہ حکومت اپنے فرائض کی تکمیل میں ناکام ہوچکی ہے۔ امن و ضبط کی صورتحال انتہائی ابتر ہے۔ سابق صدر پردیش کانگریس نے دشا قتل کے ملزمین کے انکائونٹر کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو چاہئے کہ چیف منسٹر کو طلب کرے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کے معاملے میں تلنگانہ کو ملک میں پانچواں مقام حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر گزشتہ چھ برسوں میں عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں ناکام ہوچکے ہیں۔