سکریٹریٹ کی مساجد کا حقیقی مقام ثابت کرنے چیف منسٹر کو چیلنج

   

محمد علی شبیر کاکے سی آر کو مکتوب، گوگل اور سٹیلائیٹ میاپ کے ذریعہ تصدیق کا مطالبہ
حیدرآباد۔/8ڈسمبر، ( سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے چیف منسٹر کے سی آر سے مطالبہ کیا کہ سکریٹریٹ کی مساجد کی حقیقی مقام پر تعمیر کو ثابت کریں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ دونوں مساجد اپنے حقیقی مقام سے ہٹ کر تعمیر کی جارہی ہیں۔ سابق وزیر محمد علی شبیر نے اس مسئلہ پر چیف منسٹر کو کھلا مکتوب روانہ کیا اور اُن سے وضاحت طلب کی ہے۔ گاندھی بھون میں پارٹی کے اقلیتی قائدین ایس کے افضل الدین، سمیر ولی اللہ، عظمیٰ شاکر اور متین شریف کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ سکریٹریٹ کی مسجد دفاتر معتمدی اور مسجد ہاشمی کی تعمیرِ نو کے موقع پر حقیقی مقام تبدیل کردیا گیا۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے منہدم کردہ دونوں مساجد کے حقیقی مقام کے بارے میں شبہات کا اظہار کرتے ہوئے پہلے ہی چیف منسٹر کو مکتوب روانہ کیا تھا۔ 25 نومبر کو تقریب سنگ بنیاد کے موقع پر بھی محمد علی شبیر نے حکومت کو حقیقی مقام کے بارے میں وضاحت کا چیلنج کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اندرون پندرہ یوم چیف منسٹر وضاحت نہیں کریں گے تو کانگریس پارٹی قانونی اور جمہوری طریقے اختیار کرتے ہوئے انصاف کیلئے جدوجہد کرے گی۔ چیف منسٹر اور چیف سکریٹری کے خلاف عبادت گاہوں سے متعلق قانون 1991 کی خلاف ورزی سے متعلق کریمنل کیس درج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 7 اور 8 جولائی 2020 کی درمیانی شب مساجد کو شہید کیا گیا اور چیف منسٹر نے 10 جولائی کو مساجد کو معمولی نقصان کا اعتراف کیا۔ چیف منسٹر نے موجودہ مقامات پر مساجد کی تعمیر کا وعدہ کیا تھا۔ ہائی کورٹ میں حلفنامہ داخل کرتے ہوئے حکومت نے سکریٹریٹ کے احاطہ میں ان عبادت گاہوں کی تعمیر کا یقین دلایا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ عبادت گاہوں کے مقام کی تبدیلی 1991 میں پارلیمنٹ میں وضع کردہ قانون کی خلاف ورزی ہے جس کے تحت 15 اگسٹ 1947 تک کی عبادت گاہوں کا مقام تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ انہدام کے بعد پولیس نے مقدمات درج کرنے سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مساجد کے انہدام کے 16 ماہ تک مختلف تیقنات کے بعد گزشتہ ماہ سنگ بنیاد رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی رازداری میں یہ پروگرام منعقد کرتے ہوئے مخصوص قائدین اور مذہبی شخصیتوں کو مدعو کیا گیا۔ دونوں مساجد کی تعمیر میں محمد علی شبیر کا اہم رول رہا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر سنگ بنیاد کی تقریب سے غیر حاضر رہے جس سے شبہات کو تقویت ملتی ہے۔ انہوں نے گوگل میاپ اور سٹیلائیٹ امیجس کے ذریعہ حقیقی مقام کو ثابت کرنے کا مطالبہ کیا۔ر