سی اے اے و این آر سی کی مخالفت سے مسلمانوں کو روکنا قابل مذمت

   

ڈاکٹر ایوب سرجن کی مولانا ارشد مدنی و مولانا محمود مدنی پر تنقید
لکھنو ، 25 دسمبر (سیاست ڈا ٹ کام) مولانا ارشد مدنی و مولانا محمود مدنی کے ذریعہ شہریت ترمیمی قانون و قومی شہریت رجسٹریشن کے خلاف مسلمانوں کو احتجاج سے روکنا قابل مذمت ہے ۔اس سے ایک مرتبہ پھر مدنی کنبہ کا چہرہ بے نقاب ہوگیا ۔ڈاکٹر ایوب سرجن نے میڈیا سے بات چیت کے دوران مذکورہ تاثرات کا اظہار کیا ۔ڈاکٹر ایوب نے کہا کہ حق اور باطل سے پردہ اٹھ گیا ہے ۔سارے ثبوت چیخ چیخ کر مولانا ارشد مدنی و مولانا محمود مدنی کو ملت کا غدار اور آرایس ایس / بی جے پی کا دلال ثابت کر رہے ہیں ۔اگر کسی مسلمان کو اس میں شبہ ہو تو اپنے علاقے کے جمعیتہ کے عہدے داروں سے دریافت کرلیں کہ مدنی کنبہ شہریت ترمیمی قانون و قومی شہریت رجسٹریشن کے خلاف احتجاج کرنے سے روک دیا ہے ۔آج جب آرایس ایس ایک منظم سازش کے تحت مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کی تیاری کر رہی ہے اور لوگ جس میں غیر مسلم بھی شامل ہیں قانون کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں ۔جبکہ مدنی کنبہ آرایس ایس کی ساز باز سے مسلمانوں کو احتجاج کرنے سے روک رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مظاہرین پر امن احتجاج کر رہے ہیں لیکن سازش کے تحت آر ایس ایس سے منسلک شر پسند عناصر احتجاج میں شامل ہو کر تشدد کا انجام دے رہے ہیں جسکی مثال کولکاتہ ہے جہاں مظاہرین میں بی جے پی کے کارکنان لنگی ٹوپی پہن کر تشدد کو انجام دے رہے تھے اور موقع پر رنگے ہاتھ پکڑے گئے ۔بی جے پی اظہار رائے کی آزادی کو کچلنے پر آمادہ ہے ۔پیس پارٹی ایک پانچ رکنی کمیٹی کی تشکیل کی ہے جو شہید و زخمی مظاہرین کے اہل خانہ سے ملاقات کر حالات دریافت کریگی اور ایک رپورٹ تیار کرکے حقیقت کو عوام کے سامنے پیش کرے گی ۔پیس پارٹی پرامن احتجاج کی حامی ہے۔ تشدد کے سہارے تحریک کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی ۔پیس پارٹی حکومت کے ظلم کے خلاف عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹائے گی ۔