سی پی آئی و سی پی ایم قومی قائدین کی کے سی آر سے ملاقات

   

ملک کی تازہ صورتحال کا جائزہ بی جے پی کے خلاف محاذ کی تشکیل پر بھی غور
حیدرآباد ۔ 8 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : سی پی آئی اور سی پی ایم کے قومی قائدین نے پرگتی بھون پہونچکر چیف منسٹر کے سی آر سے علحدہ علحدہ مقامات کی ملک کی تازہ سیاسی صورتحال اور قومی سطح پر غیر بی جے پی محاذ کی تشکیل کا مسئلہ بھی زیر بحث رہا ہے ۔ سی پی ایم کے سنٹرل کمیٹی کا اجلاس حیدرآباد میں منعقد ہورہا ہے ۔ جس میں شرکت کرنے کے لیے چیف منسٹر کیرالا پنیرائے وجین سی پی ایم کے قومی جنرل سکریٹری سیتارام ایچوری کے علاوہ دوسرے قائدین حیدرآباد میں ہے کل ہی وہ چیف منسٹر کے سی آر سے ملاقات کرنے والے تاہم یہ ملاقات کسی وجہ سے آج کے لیے ملتوی ہوگئی ۔ آج لنچ پر چیف منسٹر نے سی پی ایم قائدین کو مدعو کیا ۔ اس اجلاس میں ریاستی وزیر داخلہ محمد محمود علی کے علاوہ دوسرے موجود تھے ۔ بعد ازاں سی پی آئی کا ایک وفد قومی جنرل سکریٹری ڈی راجہ کی قیادت میں پرگتی بھون پہونچا ۔ اس وفد میں تلنگانہ سی پی آئی کے سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی کے علاوہ دوسرے قائدین ریاستی وزیر داخلہ محمد محمود علی اور تلنگانہ پلاننگ کمیشن کے نائب صدر بی ونود کمار بھی موجود تھے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ چیف منسٹر کے سی آر نے دونوں کمیونسٹ جماعتوں کے قائدین سے ملک کی تامہ سیاسی صورتحال مرکزی حکومت کی ریاستوں سے سوتیلا سلوک ، زیر التواء فنڈز کی عدم اجرائی ، ملک پر من مانی فیصلے مسلط کرنے ۔ اقلیتوں اور دلتوں پر مظالم کسانوں کی حق تلفی کے ساتھ ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی ، جمہری نظام کو ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا ۔ دونوں اجلاسوں میں پانچ ریاستوں کے انتخابات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ مرکزی حکومت کے عوام دشمن پالیسیوں ، فرقہ پرستی کے خلاف مشترکہ طور پر حکمت عملی تیار کرنے کا بھی جائزہ لیا گیا ۔ سیکولر اور ہم خیال جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی پہل شروع کرنے سے بھی اتفاق کیا گیا ۔ ملک کے مختلف مسائل پر غور و خوص کیا گیا ۔ بالخصوص پبلک سیکٹرس کو خانگیانے اور کارپوریٹ سیکٹر کی حوصلہ افزائی کرنے کا مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا گیا ۔ ن