حافظ صابر پاشاہ
رمضان المبارک کی نور افشاں ساعتیں جب دلوں کو خشوع و خضوع سے لبریز کرتی ہیں اور آسمانِ رحمت سے انوار و تجلیات کی بارش ہوتی ہے، تو انہی بابرکت دنوں میں ۱۰ رمضان المبارک ہمیں اُس عظیم المرتبت ہستی کی یاد دلاتا ہے جس نے تاریخِ انسانیت میں وفا، ایثار اور تصدیقِ حق کا ایک ایسا سنہرا باب رقم کیا جو رہتی دنیا تک درخشاں رہے گا۔ یہ یومِ وصال ہے امّ المؤمنین، سیدۂ قریش، تاجدارِ صدق و وفا خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کا، وہ باوقار خاتون جنہیں سب سے پہلے نبوتِ محمدی ﷺ کی تصدیق کا شرف حاصل ہوا۔یہ وہ مقدس ہستی تھیں جنہوں نے اعلانِ نبوت سے قبل بھی صدق و امانت کے پیکر محمد ﷺ کی شخصیت میں نورِ نبوت کی جھلک دیکھ لی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہا نے نہ صرف اپنے دل کی گہرائیوں سے آپ ﷺ کی تصدیق کی بلکہ اپنے مال، اپنی آسائش اور اپنی تمام تر توانائیاں دینِ حق کی سربلندی کے لیے وقف کر دیں۔سیدہ خدیجۃ الکبری کو دین اسلام اور بارگاہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بڑی فضیلت حاصل ہے۔ ایسی عظیم فضیلت کہ سیدہ فاطمۃ الزہراہ خاتون جنت جیسی ہستی ان ہی کے بطن سے پیدا ہوئیں۔ حضرت خدیجہ جب تک حیات رہیں آپکی موجودگی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی خاتون سے نکاح نہیں کیا۔سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تعلق قریش کے معزز خاندان بنی اسد سے تھا۔ آپ عقل و فراست، تجارت میں دیانت، اور کردار کی بلندی میں اپنی مثال آپ تھیں۔ جب آپ ﷺ غارِ حرا میں خلوت گزیں ہوتے اور حق کی تلاش میں شب و روز مصروفِ عبادت رہتے، تو یہی عظیم زوجۂ محترمہ تھیں جو سامانِ طعام مہیا کرتیں اور دلجوئی کے ساتھ آپ ﷺ کی ڈھارس بندھاتیں۔پہلی وحی کے بعد جب آپ ﷺ پر ہیبت طاری ہوئی تو سیدۂ کائنات نے تاریخ ساز جملے کہہ کر نہ صرف تسلی دی بلکہ نبوت کے سفر کی پہلی مومنہ بن کر ہمیشہ کے لیے صداقت کی علمبردار ٹھہریں۔ آپ کا ایمان محض جذباتی نہیں بلکہ فہم و بصیرت پر مبنی تھا۔جب اہلِ قریش نے مقاطعہ کیا اور بنی ہاشم کو شعبِ ابی طالب میں محصور کر دیا، تو تین سالہ صبر آزما دور میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے فقر و فاقہ برداشت کیا، حالانکہ وہ مکہ کی خوشحال ترین خاتون تھیں۔ مگر دینِ اسلام کی سربلندی کے لئے ہر آزمائش کو خندہ پیشانی سے قبول کیا۔ ان کی استقامت نے اسلام کے نوزائیدہ قافلے کو حوصلہ اور توانائی عطا کی۔آپ رضی اللہ عنہا کے اخلاص کا یہ عالم تھا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کا سلام اور جنت میں موتیوں کے محل کی بشارت لے کر حاضر ہوئے۔ یہ اعزاز تاریخِ نسواں میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے ، یہ ایک ایسی بشارت جو رہتی دنیا تک خواتین ِ اسلام کے لئے سرمایۂ افتخار ہے۔بعثت کے دسویں سال ۱۰ رمضان المبارک کو یہ وفا شعار رفیقۂ حیات اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے خود انہیں لحد میں اُتارا۔ یہ سال ”عامُ الحزن “ کہلایا، کیونکہ آپ ﷺ کو اپنی سب سے بڑی غمگسار اور مددگار سے جدائی کا صدمہ سہنا پڑا۔حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی ۲۵سالہ رفاقت نے یہ ثابت کر دیا کہ ایک باایمان، باکردار اور باوفا خاتون کس طرح تاریخ کا دھارا بدل سکتی ہے۔ آپ کی سیرت خواتین کے لئے عزت و وقار کا مینارِ نور ہے۔