نئی دہلی : دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ اور عآپ کے سینئر لیڈر منیش سیسوڈیا کو سی بی آئی نے آج دوپہر راؤز ایونیو کورٹ میں پیش کیا۔ سماعت کے بعد عدالت نے ان کی ریمانڈ پر فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے منیش سیسوڈیا کی پانچ دنوں کی ریمانڈ سی بی آئی کو دی ہے۔ یعنی 4 مارچ تک منیش سیسوڈیا سی بی آئی کی ریمانڈ میں رہیں گے۔ سی بی آئی نے عدالت سے سیسوڈیا کو پیش کرنے کے بعد پانچ دنوں کی ریمانڈ کا مطالبہ کیا تھا، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔ عدالت کے فیصلہ نے نائب وزیر اعلیٰ سیسوڈیا کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، کیونکہ وہ اُمید لگائے بیٹھے تھے کہ فیصلہ ان کے حق میں آئے گا۔آج سی بی آئی نے آبکاری گھوٹالہ معاملے پر اپنی بات رکھتے ہوئے عدالت سے کہا کہ سیسوڈیا کے کہنے پر کمیشن کو پانچ کروڑ سے بڑھا کر 12 کروڑ روپئے کیا گیا تھا۔ پوچھ تاچھ کرنے کے لیے ریمانڈ کی ضرورت ہے۔ سی بی آئی طرف سے منیش سیسوڈیا کی ریمانڈ مانگے جانے کا ان کے وکیل دیان کرشنا نے مخالفت کی۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ریمانڈ لینے کی کوئی وجہ نہیں ہے اور جانچ میں تعاون نہیں کرنے کا الزام بے بنیاد ہے۔ سیسوڈیا کے وکیل نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر کی منظوری کے بعد کمیشن بڑھایا گیا تھا اور ایل جی کی جانکاری میں ہی سب کچھ ہوا۔ آبکاری پالیسی میں شفافیت برتی گئی ہے۔کورٹ میں سیسوڈیا کی طرف سے آج تین وکیل موجود رہے۔ ان کے وکیل دیان کرشنا نے عدالت میں کہا کہ سیسوڈیا ہر نوٹس پر سی بی آئی کے سامنے پیش ہوئے تھے اس لیے ریمانڈ کی ضرورت نہیں ہے۔ سماعت مکمل ہونے کے بعد راؤز ایونیو کورٹ نے سی بی آئی کے ذریعہ منیش سیسوڈیا کے ریمانڈ کے مطالبہ پر فیصلہ کچھ دیر کے لیے محفوظ رکھ لیا تھا۔ اس سے قبل دہلی آبکاری پالیسی معاملے کو لے کر سی بی آئی نے اتوار کو آٹھ گھنٹے کی پوچھ تاچھ کے بعد نائب وزیر اعلیٰ کو گرفتار کر لیا تھا۔ پیر کی دوپہر ان کا میڈیکل ٹسٹ ہوا، جس کے بعد انھیں عدالت میں پیش کیا گیا۔
واضح رہے کہ دہلی حکومت کے ذریعہ واپس لی جا چکی آبکاری پالیسی کے معاملے میں سی بی آئی نے اتوار کو چوتھی گرفتاری کی۔ اس سے پہلے وجئے نایر، سمیر مہندرو اور ابھشیک بوئن پلی کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اس پورے معاملے میں ایک طرف جہاں عام آدمی پارٹی کا دعویٰ ہے کہ مرکزی حکومت ایجنسیوں کا بیجا استعمال کر رہی ہے، وہیں بی جے پی کا الزام ہے کہ عآپ حکومت کی آبکاری پالیسی کے ذریعہ لیڈروں کے دوستوں کو فائدہ پہنچایا گیا۔