سیما حیدر جاسوس ؟ یوپی اے ٹی ایس نے تحویل میں لیا

   

پاکستانی عورت کے بچے اور گریٹر نوئیڈا کا سچن بھی تحویل میں ۔ سیما کو واپس بھیجنے گؤ رکھشا دل کا مطالبہ

نئی دہلی:پاکستانی سیما حیدر اور سچن کی محبت کی کہانی میں جاسوسی کا زاویہ سامنے آیا ہے۔ سیما کو اُترپردیش اے ٹی ایس نے پیر کو گریٹر نوئیڈا میں واقع اُس کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا ۔ سیما کے ساتھ اے ٹی ایس اُس کے چار بچوں اور سچن کو بھی اپنے ساتھ لے گئی ہے۔ سیما سے خفیہ مقام پر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق انٹیلی جنس بیورو کو خفیہ جانکاری ملی ہے کہ سیما حیدر کا چچا پاکستانی فوج میں صوبیدار ہے۔ اُس کا بھائی بھی پاکستانی فوج میں ہے۔ اس سے قبل سیما نے اپنے بھائی کے بارے میں کہا تھا کہ وہ فوج میں نہیں ہیں، لیکن فوج میں بھرتی ہونے کی تیاری کر رہا ہے ۔ اے ٹی ایس خفیہ معلومات کی جانچ کر رہی ہے کہ یہ کتنا سچ ہے۔آئی بی سے معلومات ملنے کے بعد اے ٹی ایس حرکت میں آگئی۔ سیما حیدر کا پاسپورٹ بھی جانچ کیلئے بھیج دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے موبائیل کی تفصیلات کی بھی دوبارہ جانچ کی جارہی ہے۔ دوسری طرف نوئیڈا پولیس نے سیما کے گھر کے باہر سیکوریٹی بڑھا دی ہے۔ سچن کے اہل خانہ کو کسی سے ملنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ سچن کے خاندان والوں نے دروازے بند کر دیے ہیں۔جب سیما حیدر کا معاملہ سامنے آیا تو ان کے پاکستانی ایجنسی آئی ایس آئی سے تعلق کا چرچا ہوا۔ تاہم بعد میں تحقیقاتی ایجنسیوں کو اس سے متعلق کوئی ٹھوس ثبوت نہیں مل سکا۔ اس لیے معاملہ محبت کے زاویے کی طرف مڑ گیا تھا۔ لیکن اب آئی بی کی جانکاری کے بعد ایجنسیوں نے ایک بار پھر جاسوسی کے زاویے کی جانچ شروع کردی ہے۔دوسری جانب گؤ رکھشا دل نے سیما حیدر کے ہندوستان آنے کی مخالفت کرتے ہوئے اُسے اگلے 72 گھنٹوں میں واپس بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے سیما کے ذریعے جاسوسی کا امکان ظاہر کیا ہے۔ سیما حیدر کا بھائی پاکستانی فوج میں ہے۔ سیما حیدر کو ملک کی سلامتی کیلئے خطرہ بتاتے ہوئے تنظیم نے وزارت داخلہ اور یوپی حکومت سے اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔ PUBG کھیلتے ہوئے نوئیڈا کے سچن کے رابطے میں آنے والی سیما حیدر اپنے شوہر کو چھوڑ کر ہندوستان میں رہنے لگی تھی۔ سچن اور سیما کی شادی ہوئی ہے ۔