درکار معلومات کی فراہمی سے عہدیداروں کا گریز
حیدرآباد۔/13 فروری، ( سیاست نیوز) حکومت کے زوال یا پھر کرسی سے محرومی پر سیاستداں ہوں یا عہدیدار انہیں تلخ تجربات سے گذرنا پڑتا ہے۔ اسپیشل چیف سکریٹری بلدی نظم و نسق کے عہدہ سے تبادلہ کے بعد اروند کمار کو خود اپنے محکمہ سے تلخ تجربہ ہوا جہاں وہ برسوں تک سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ کل تک جو عہدیدار ان کے ماتحت تھے آج وہی ان کی بات ماننے تیار نہیں ہیں۔ واضح رہے کہ ریونت ریڈی حکومت نے بی آر ایس حکومت کے قریبی مانے جانے والے اروند کمار کا بلدی نظم و نسق سے تبادلہ کردیا اور بعد میں انہیں فارمولہ ای۔ ریس کیلئے فنڈز کی اجرائی کے سلسلہ میں میمو جاری کی گئی۔ فارمولہ ای ۔ ریس کیلئے حکومت کی منظوری کے بغیر ہی فنڈز جاری کرنے کا الزام ہے۔ چیف سکریٹری کی جانب سے جاری کردہ میمو کا جواب دینے کیلئے اروند کمار نے اپنے سابق محکمہ سے بعض دستاویزات طلب کیں لیکن عہدیداروں نے نہ ہی دستاویزات فراہم کی بلکہ جواب تک نہیں دیا۔ محکمہ بلدی نظم و نسق کا قلمدان فی الوقت چیف منسٹر ریونت ریڈی کے پاس ہے اور حکومت نے فارمولہ ای ۔ ریس کیلئے جاری کردہ فنڈز کو عہدیداروں سے واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ دراصل حکومت کی ناراضگی سے بچنے کیلئے کل تک اروند کمار کے ماتحت عہدیدار بھی آج کوئی بھی دستاویزات یا معلومات فراہم کرنے سے گریز کررہے ہیں۔1