نئی دہلی : خاتون ایم پیز نے آج تشویش ظاہر کی کہ شادی کے لئے لڑکیوں کی قانونی عمر کو 18 سے بڑھاکر 21 سال کردینے سے متعلق بل کی تنقیح میں خود خاتون قانون سازوں کو الگ تھلگ کردیا گیا ہے ۔ مجوزہ قانون کا جائزہ لینے کے لئے جو پارلیمانی پیانل تشکیل دیا گیا ، اُس میں خواتین کی مناسب نمائندگی نہیں ہے ۔ پارلیمانی اسٹانڈنگ کمیٹی برائے تعلیم ، خواتین ، اطفال ، نوجوانان اور کھیل کود میں ترنمول کانگریس لیڈر سشمیتا دیو واحد خاتون رُکن ہیں ۔ وہ مغربی بنگال سے راجیہ سبھا کی رُکن ہیں۔ اس کمیٹی کو مخالف چائلڈ میاریج (ترمیمی) بل کی تنقیح کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔ شیوسینا لیڈر پرینکا چترویدی جو مہاراشٹرا سے ایوان بالا کی رُکن ہیں ، اُنھوں نے چیرمین راجیہ سبھا ایم وینکیا نائیڈو کو ایک مکتوب تحریر کیا ۔ اُنھوں نے لکھاکہ ایسا بل جو خواتین اور ہندوستانی سماج کے لئے کافی اہمیت رکھتا ہے ، اُس پر غور و خوض کے لئے جو کمیٹی تشکیل دی گئی ، اُس میں خود خواتین کی نمائندگی حد درجہ ناقص ہے ۔ 31 رکنی پیانل میں صرف ایک خاتون ہے حالانکہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوان میں موجودہ طورپر 110 خاتون ایم پیز ہیں۔ سشمتا دیو نے بھی کمیٹی چیرمین ونئے سہسرا بدھے کو موسومہ مکتوب میں درخواست کی کہ ایسا قاعدہ لاگو کریں جو پیانل کے روبرو حلفیہ بیان دینے کے لئے تمام خاتون پارلیمنٹیرینس کو موقع فراہم کرے گا ۔