شادی مبارک ، کلیان لکشمی اسکیمات کے 1,12,105 درخواستیں زیر التوا

   


مختلف مرحلوں میں درخواستوں کی عدم یکسوئی سے 1,115.41 کروڑ روپئے کی عدم اجرائی
حیدرآباد :۔ غریب لڑکیوں کی شادی کے لیے تلنگانہ حکومت نے شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیمات کا آغاز کرتے ہوئے غریب ماں باپ کا مالی بوجھ کم کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ان اسکیمات کی درخواستوں کی منظوری میں تاخیر ہونے سے غریب عوام پریشان ہیں ۔ کورونا بحران کے دوران انجام دی گئی شادیوں کی درخواستیں مختلف مرحلوں میں زیر التواء ہیں ۔ ان لاک عمل کے آغاز کے بعد سے ضرورت کے مطابق دستاویزات غریب والدین درخواستوں کے ساتھ منسلک کررہے ہیں ۔ مگر یہ درخواستیں ارکان اسمبلی ، تحصیلداروں ، آر ڈی او کے پاس زیر التوا ہیں ۔ سال 2020-21 کے دوران شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیمات کے لیے 1.59 لاکھ درخواستیں وصول ہوئی ۔ اس سے پہلے کی زیر التواء درخواستوں کو بھی شمار کرلیا جائے تو جملہ 2.63 لاکھ درخواستیں ہیں ۔ جن میں 1.51 لاکھ درخواستوں کی یکسوئی ہوئی ہے ۔ اس کے لیے حکومت نے ابھی تک 1,502 کروڑ روپئے ادا کردیا ہے ۔ مزید 1.12 لاکھ درخواستوں کی یکسوئی کے لیے 1,115 کروڑ روپئے کی ضرورت ہے ۔ حکومت نے پہلے ان اسکیمات کے لیے وصول ہونے والی درخواستوں کی اہلیت کا جائزہ لیتے ہوئے اندرون 45 یوم اس کو منظور کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں ۔ ہر غریب لڑکی کی شادی پر حکومت کی جانب سے 1,00,116 لاکھ روپئے کی مالی امداد دی جارہی ہے ۔ ریاست کے تمام اضلاع سے ان اسکیمات کے لیے درخواستیں وصول ہوئی ہیں ۔ چند تحصیلدار شادی کا رقعہ ، تصاویر کی جگہ میریج سرٹیفیکٹس طلب کررہے ہیں ۔ بعض مقامات پر تکنیکی خرابی کی وجہ سے تاخیر کا بہانہ کیا جارہا ہے ۔ کورونا بحران اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے درخواستوں کی یکسوئی میں تاخیر ہونے کا دعویٰ کیا جارہا ہے ۔ حکومت کی جانب سے فنڈز کی اجرائی میں تاخیر ہونے کا بھی دعویٰ کیا جارہا ہے ۔ یہی کہا جارہا ہے کہ درخواستوں کی یکسوئی ہوگئی ہے مگر ٹریثرری میں 92 کروڑ روپئے روک جانے کی بھی وجہ بتائی جارہی ہے ۔ یہ فنڈز کی اجرائی پر مزید 9 ہزار لوگوں کو مالی امداد فراہم کی جاسکتی ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ تحصیل آفسوں میں 36 ہزار ، ارکان اسمبلی کی تصدیق کے لیے 21 ہزار ارکان اسمبلی کی منظوری کے باوجود فنڈز کی قلت سے آر ڈی او آفسوں میں 51 ہزار سے زائد درخواستیں زیر التوا ہیں ۔ ان دو اسکیمات کے لیے زیر التوا درخواستوں کا جائزہ لیا جائے تو اقلیتوں کے 23,469 درخواستیں زیر التواء ہیں جن کے بقایا جات 233.15 کروڑ ہیں ۔ ایس سی طبقہ کے 12,996 درخواستیں زیر التواء ہیں اور 129.14 کروڑ روپئے کے بقایا جات ہیں ۔ قبائلی طبقہ کے 8,389 درخواستیں زیر التواء ہیں اور 82.99 کروڑ بقایا جات ہیں ۔ بی سی طبقات کے 60,365 درخواستیں زیر التواء ہیں جن کے 601.56 کروڑ روپئے بقایا جات ہیں ۔ ای بی سی طبقات کے 6,886 درخواستیں زیر التواء ہیں ۔ 68.57 کروڑ روپئے کے بقایا جات ہیں جملہ 1,12,105 درخواستیں زیر التواء ہیں اور 1,115.41 کروڑ روپئے کے بقایا جات ہیں ۔۔