سیاست و ملت فنڈ کا رشتوں کا دوبدو پروگرام، محمد ناظم الدین اور الیاس پاشاہ کا خطاب
حیدرآباد ۔ 20 مئی (سیاست نیوز) روزنامہ سیاست اور ملت فنڈ کے تعاون و اشتراک سے 127 واں دوبدو ملاقات پروگرام فلک نمامیں موجود بن تریف فنکشن ہال نزد انجن باؤلی منعقد ہوا جس میں لڑکا اور لڑکی کے والدین ان گرمی اور اس کی تمازت کے بڑی تعداد میں شریک ہوئے اس سے ایسا محسو س ہورہا تھا کہ والدین اپنے لڑکے اور لڑکوں کے رشتوں کی تلاش میں کتنے فکرمند ہیں۔ ڈاکٹر محمد ناظم علی نے آج کے اس پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان دنوں مسلم معاشرہ میں سب سے بڑا سلگتا مسئلہ جہاں رشتوں میں دیری ہے وہیں اگر شادی کی جاتی ہے تو اس میں وقت کی پابندی نہیں کی جاتی، جس کی وجہ سے فجر کی اذان تک بھی شادی بیاہ تقریب و رسومات چلا کرتے ہیں۔ مسلمان جو ایک ایسے دین کو ماننے والے ہیں جو وقت کی پابندی کا درس دیتا ہے۔ اس کے باوجود ہم اپنے معاملات میں وقت کی پابندی کرنے سے پیچھے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام فہم، غیرغلط رسومات کو ترک کرتے ہوئے شادی انجام دیں۔ انہوں نے اس ملک میں موجود ریاست کیرالا کی مثال دی جہاں پر کالجس میں طلباء سے درخواست پر خانہ پُری کرتے ہوئے عہد لیا جارہا ہیکہ وہ اپنی شادی میں بیجا رسومات کو ترک کرتے ہوئے مذہبی بنیاد پر شادی کو سادگی سے انجام دیں۔ جناب محمد احمد علی مائناریٹی آفیسر تلنگانہ (مؤظف) نے کہا کہ مسلمانوں کے نزدیک شادی بیاہ کے مسئلہ کو اسلام نے بڑا آسان سے آسان پیش کیا مگر ہم نے دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی اندھی تقلید کرتے ہوئے شادی بیاہ کو مشکل سے مشکل تر بنادیا ہے جس کی وجہ سے کئی غریب والدین کے ہاں تعلیم یافتہ اور خوبصورت لڑکیاں رہنے کے باوجود مطالبات کے پُر کرنے سے قاصر نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لڑکی کے انتخاب پر مالداری کو بنیاد نہ بنائیں بلکہ اس کے گھرانے کی شریعت، حسب و نسب، تعلیم کو ترجیح دیں۔ جناب الیاس پاشاہ نے کہا کہ عرصہ دراز سے سیاست اور ملت فنڈ کے ذریعہ دوبدو ملاقات پروگرام شہر اور اضلاع میں کئے گئے جس سے رشتوں کے انتخاب میں والدین کیلئے سہولیات پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواہشات پر روک لگائیں اس لئے کہ خواہشات کا طوفان اتنا بڑھ چکا ہے کہ اس کی وجہ سے لڑکیوں کی عمر دراز ہوتی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج تعلیم کی بناء لڑکیوں سے زیادہ لڑکیوں میں شعور بیدار ہوچکا ہے جس کیلئے انہوں نے آر ٹی سی بس میں جگتیال میں ہوئے واقعہ کی مثال پیش کی۔ ایک تعلیم یافتہ لڑکی نے جس طرح مردانہ وار مقابلہ انسپکٹر کی اہلیہ اور انسپکٹر کے ساتھ کرتے ہوئے دوٹوک جواب دیا انہوں نے کہا کہ آج اس طرح سے باطل و فرقہ پرست مسلم لڑکوں اور لڑکیوں کو ہراساں کرنے کی کوشش میں سرگرداں ہیں۔ آج کے اس دوبدوپروگرام میں کرنول سے تعلق رکھنے والے والدین نے بھی شرکت کی جن کا لڑکا حافظ و قاری قرآن کے ساتھ ایم بی اے بھی ہیں۔ اس پروگرام میں امریکہ، ابوظہبی، قطر، سعودی عرب، کویت اور خلیجی ممالک میں مقیم لڑکوں کے والدین نے اپنا بائیو ڈاٹا رجسٹریشن کروایا۔ جناب صالح بن عبداللہ باحاذق نے پروگرام کی کارروائی چلائی اور پروگرام کے اغراض پر روشنی ڈالی۔ قاری الیاس باشاہ کی قرأت سے پروگرام کا آغاز ہوا۔ پروگرام میں جناب منور حسین نے بھی شرکت کی جنہیں مختلف کاؤنٹرس کا معائنہ کروایا گیا۔ اس پروگرام میں انجینئرنگ، میڈیسن، گریجویشن، پوسٹ گریجویشن، انٹرمیڈیٹ، ایس ایس سی، حافظ و عالم کے علاوہ کمپیوٹرس سکشن بھی تھا جس کی مدد سے والدین نے رشتوں کا انتخاب کیا۔ ان کاؤنٹرس پر والینٹرس موجود تھے جن میں جناب محمد ناظم علی، سیدہ محمدی، الیاس باشاہ، غلام محی الدین فاروق، رئیسہ بیگم، الیاس باشاہ، شاہانہ، لطیف اسد، ثانیہ، تسکین، صالح بن عبداللہ باحاذق، ثمینہ افروز، لطیف النساء، کوثر جہاں، محمد احمد، آمینہ خان، امتیاز ترنم موجود تھے جبکہ رجسٹریشن کاؤنٹرس پر ثناء فردوس، غوثیہ، افسر، غوث اور دوسرے موجود تھے۔ لڑکا اور لڑکے والدین 62 بائیو ڈاٹاس رجسٹریشن کروائے۔ جناب خالد محی الدین اسد کوآرڈینیٹر اور محترمہ فرزانہ اور دوسروں نے والدین کی کونسلنگ کی۔ اس پروگرام کو سیاست ٹی وی، فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب پر پیش کیا گیا جسے ملک اور بیرونی ممالک میں موجود افراد نے دیکھا اور پروگرام کی سراہنا کی۔ 4 بجے شام پروگرام کا اختتام عمل میں آیا۔