شام اور عراق میں اب بھی داعش کےہزارو ںجنگجو موجود

   

نیویارک : اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا ہے کہ شدت پسند تنظیم داعش سے ان کے سابق ??گڑھ شام اور عراق میں اب بھی پانچ سے سات ہزار ارکان وابستہ ہیامریکہ کی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پیر کو جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ داعش کے جنگجو افغانستان میں بھی امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔عسکریت پسند گروپ کے خلاف پابندیوں کی نگرانی کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں سال کی پہلی ششماہی میں زیادہ تنازعات والے خطے میں داعش سے لاحق خطرہ زیادہ اورغیر تنازعات والیعلاقوں میں کم رہا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو دی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گروپ کی قیادت کی ہلاکت اور شام و عراق میں تنظیم کی سرگرمیوں میں کمی کے باوجود داعش کے دوبارہ سر اٹھانے کا خطرہ برقرار ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ جنگجو گروپ نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی ہے۔داعش گروپ نے 2014 میں شام اور عراق کے وسیع علاقے پر خود ساختہ خلافت کا اعلان کیا تھا جس کے بعد عراق میں تین سال تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد اس گروپ کو 2017 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اس تین سالہ سورش کے نتیجے میں ہزاروں افراد کو جان سے ہاتھ دھونا پڑے تھے اور کئی شہر تباہ ہو گئے تھے۔