شام، عرب سرمایہ کاری کا خواہاں ، وزیر خارجہ کے مزید دورے

   

دمشق : شام میں عبوری حکومت کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی سعودی عرب کے بعد آئندہ دنوں میں اس لیے خطہ کی تین دیگر عرب ریاستوں کے بھی دورے کریں گے کہ خلیج فارس کے امیر ممالک جنگ سے تباہ شدہ شام میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کریں۔ شامی دارالحکومت دمشق سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق بشار الاسد کی حکومت کے بعد اقتدار میں آنے والی شام کی عبوری انتظامیہ کی خواہش ہے کہ طویل خانہ جنگی سے تباہ شدہ اس ملک کی تعمیر نو میں کوئی تاخیر نہ ہو، خاص طور پر ملکی بنیادی ڈھانچے کی دوبارہ تعمیر اور معیشت کو بحالی کی راہ پر ڈالنے کے حوالے سے۔ اس سلسلے میں دمشق میں موجودہ حکومت کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے اسی ہفتہ علاقائی طاقت سمجھی جانے والی خلیجی ریاست سعودی عرب کا دورہ بھی کیا تھا۔ یہ الشیبانی کا بطور وزیر خارجہ اولین غیر ملکی دورہ تھا۔ اب شامی وزیر خارجہ نے اسی پس منظر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ وہ اسی ہفتہ خطے کی تین دیگر عرب ریاستوں قطر، متحدہ عرب امارات اور اردن کے دورے بھی کریں گے۔ اسعد الشیبانی نے ایکس پر لکھا کہ اسی ہفتہ میں بطور وزیر خارجہ شام کی نمائندگی کرتے ہوئے برادر ممالک قطر، متحدہ عرب امارات اور اردن کے دورے کروں گا۔ انہوں نے لکھا کہ ہمیں امید ہے کہ ان تینوں عرب ریاستوں کے دوروں سے ہمیں اپنے ملک میں استحکام، سلامتی کو یقینی بنانے اور اقتصادی بحالی کے عمل میں مدد ملے گی اور شام کی ان ممالک سے منفرد شراکت داریاں قائم ہو سکیں گی۔
قبل ازیں اسعد الشیبانی نے اسی ہفتہ سعودی عرب کا جو دورہ کیا تھا، اس میں ان کے ساتھ شام کی عبوری حکومت کے وزیر دفاع اور انٹیلی جنس چیف بھی ریاض گئے تھے۔