شانِ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ ؓ

   

مولوی حافظ سید شاہ مدثر حسینی
کائناتِ ہستی میں انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد صحابہ کرام وہ مقدس جماعت ہے جن کے نفوسِ قدسیہ کی طہارت کی گواہی خود خالقِ کائنات نے دی ہے، اس کہکشاں میں سیدنا علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم کا وجودِ مسعود وہ نیرِ تاباں ہے جس کی ضیا پاشیوں سے علم، حکمت، شجاعت اور فقر کی راہیں روشن ہیں۔ آپ کی زندگی کا ہر لمحہ رضائے الہی اور اتباعِ رسول ﷺ کا وہ عملی نمونہ ہے جس نے رہتی دنیا تک کے لئے حق و باطل کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچ دی ہے۔ قرآن کریم کی متعدد آیات حضرت علی کی فضیلت پر شاہد ہیں۔ مفسرین کے مطابق کئی مقامات پر آپ کی شان بیان ہوئی ہے:
آیتِ مباہلہ: جب نجران کے عیسائیوں سے مباہلہ کا وقت آیا تو اللہ نے حکم دیا کہ اپنے ’’نفس‘‘ کو لے آئیں۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی کو اپنا ’’نفس‘‘ (جان) قرار دے کر ساتھ لیا۔ (سورہ آل عمران)آیتِ مودت: ’’کہہ دیجیے کہ میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے قرابت داروں کی محبت کے۔‘‘ (سورۃ الشوریٰ)۔ امام طبرانی اور ابن ابی حاتم کے مطابق اس سے مراد علی، فاطمہ اور ان کے بیٹے ہیں۔ آیتِ ولایت: ’’تمہارا ولی تو صرف اللہ، اس کا رسول اور وہ مومن جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیںاور وہ حالتِ رکوع میں ہوتے ہیں ۔‘‘ (سورۃ المائدہ)۔ مفسرین کے مطابق یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب حضرت علی نے رکوع کی حالت میں سائل کو انگوٹھی عطا کی۔
نبی کریم ﷺ نے مختلف مواقع پر حضرت علی کے مقام و مرتبے کو واضح فرمایا:اعلانِ غدیر: جس کا میں مولا ہوں، اس کا علی مولا ہے۔(جامع ترمذی) میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ (المستدرک للحاکم)
حدیثِ منزلت: تم میرے لئے ایسے ہو جیسے موسیٰ کیلئے ہارون تھے، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔(صحیح بخاری)

ایمان کی نشانی: اے علی! تم سے صرف مومن ہی محبت کریگا اور تم سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا۔ (صحیح مسلم)
خلفائے راشدین حضرت علیؓ کی علمی و روحانی عظمت کے معترف تھے:سیدنا ابوبکر صدیقؓ: ’’علی کے چہرے کو دیکھنا بھی عبادت ہے۔‘‘ سیدنا عمر فاروقؓ: آپ اکثر پیچیدہ مسائل میں حضرت علیؓ سے رجوع کرتے اور فرماتے: ’’اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا۔‘‘ نیز فرمایا: ’’ہم میں سب سے بہتر فیصلہ کرنے والے علی ہیں۔‘‘ (صحیح بخاری)
سیدنا عثمان غنیؓ نے فرمایا: اے علی! آپ کے پاس وہ علم ہے جو ہم میں سے کسی کے پاس نہیں، اور آپ کی فضیلت کا انکار وہی کرے گا جو جاہل ہو۔‘‘ (حوالہ: مناقب علی بن ابی طالب، ابن المغازلی) حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں:’’میرا علم اور تمام اصحابِ محمد (ﷺ) کا علم، حضرت علی کے علم کے مقابلے میں ایسا ہے جیسے سات سمندروں کے مقابلے میں ایک قطرہ۔
سیدنا علی المرتضیٰؓ کی حیاتِ طیبہ عشقِ رسول ﷺ، خدمتِ دین اور عدل و انصاف کا وہ لامتناہی سمندر ہے جس کا ہر قطرہ انسانیت کی رہنمائی کیلئے کافی ہے۔حضرت علیؓ سے وابستگی دراصل صاحبِ قرآن ﷺ سے وابستگی ہے اور آپ کی محبت ایمان کی روح ہے۔