اراضیات کے تبادلے پر ماحولیات کو نقصان کا خدشہ ، ہائی کورٹ میں درخواست
حیدرآباد۔یکم۔اکٹوبر۔(سیاست نیوز) شاہی مسجد باغ عامہ کی اراضی کے حصول کے ذریعہ اسمبلی کی توسیع کے منصوبہ میں عدالتی رکاوٹ پیدا ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ حکومت تلنگانہ نے شاہی مسجد کی 1539 مربع گز اراضی کے حصول کے ذریعہ اسمبلی کی توسیع اور شاہی مسجد باغ عامہ کو محکمہ باغبانی کی متبادل اراضی کے طور پر حوالہ کرنے کے سلسلہ میں مشاورت اور اقدامات کا آغاز کیا تھا لیکن تلنگانہ ہائی کورٹ میں داخل کی گئی ایک درخواست مفادعامہ میں بغیر مشترکہ سروے مسجد اور محکمہ باغبانی کے درمیان اراضی کے تبادلہ کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مسٹر سی ایچ راما راؤ نے تلنگانہ ہائی کورٹ میں درخواست داخل کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اگر اراضی کا تبادلہ کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں ماحولیات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ جسٹس اپریش کمار سنگھ اور وی رام کرشنا ریڈی نے درخواست مفاد عامہ کی سماعت کے بعد تلنگانہ وقف بورڈ کو ہدایت دی کہ وہ اندرون ایک ہفتہ اپنے موقف کوپیش کرتے ہوئے جواب داخل کرے۔ عدالت میں درخواست داخل کرنے والے درخواست گذار نے دعویٰ کیا کہ مسجد کی 1539 مربع گز اراضی حاصل کرتے ہوئے دوسری جانب سے محکمہ باغبانی اور قانون ساز اسمبلی کی کچھ اراضی شاہی مسجد کے حوالہ کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں جو کہ مناسب نہیں ہے۔درخواست گذار نے عدالت میں پیش کئے گئے اپنے موقف میںکہا کہ مختلف محکمہ جات محکمہ جنگلات‘محکمہ آثار قدیمہ ‘ محکمہ باغبانی ‘ محکمہ مال ‘ حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی ‘ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے مشترکہ سروے کے بعد ہی اراضی کے تبادلہ کو منظوری دی جانی چاہئے ۔عدالت میں مقدمہ کی سماعت کے دوران وقف گزٹ میں درج شاہی مسجد کے رقبہ اور موجودہ رقبہ میں ریکارڈ کی جانے والی تبدیلی کو بھی زیر بحث لایا گیا علاوہ ازیں شاہی مسجد کے درج اوقاف ہونے کے ساتھ ساتھ ریاستی محکمہ آثار قدیمہ میں بھی اس کے اندراج پر بحث کی گئی اور کہاگیا کہ شاہی مسجد کے حدود میں تبدیلی اور اس میں مداخلت کے لئے ریاستی محکمہ آثار قدیمہ کی منظوری بھی لازمی ہے اسی لئے کسی بھی طرح کی کاروائی سے قبل عدالت کو مشترکہ سروے کے احکام جاری کئے جانے چاہئے ۔تلنگانہ وقف بورڈ کے وکلاء نے مقدمہ میں پیش ہوتے ہوئے شاہی مسجد کے درج اوقاف ہونے اور اس معاملہ میں جاری سرگرمیوں کے متعلق عدالت کو واقف کروایا علاوہ ازیں 3جولائی کو ہوئے اجلاس کی تفصیلات بھی عدالت میں پیش کی گئی۔ واضح رہے کہ ’روزنامہ سیاست‘ نے اسمبلی کی توسیع کے لئے شاہی مسجد کی 1539 مربع گز اراضی کے حصول کی کوششوں سے متعلق انکشاف کیا تھا اور اس بات کو بھی منظر عام پر لایا تھا کہ ریاستی حکومت کے محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے اسمبلی کی توسیع کے لئے ’شاہی مسجد‘ کی اراضی کی حوالگی کے لئے آمادگی کا بھی اظہار کرچکے ہیں۔حکومت کی جانب سے اس پراجکٹ کو شاہی مسجد کی ترقی کے پراجکٹ کے طور پر پیش کیا جا رہاہے۔3/m/b