شجرکاری مہم: حیدرآباد کو اقوام متحدہ کا ’’ ٹری سٹی ‘‘ ایوارڈ

   

39 پارکس اور14 جھیلوں کی نگہداشت، ہریتا ہرم پروگرام میں ایچ ایم ڈی اے کا بہتر مظاہرہ
حیدرآباد۔/16نومبر، ( سیاست نیوز) ایچ ایم ڈی اے کی جانب سے شہری علاقوں میں اربن فاریسٹری کے تحت تلنگانہ ہریتا ہرم پروگرام پر کامیابی سے عمل آوری جاری ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اس پروگرام کا نظریہ دیا جبکہ وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ نے محکمہ جات کو عمل آوری کی ہدایت دی۔ اربن فاریسٹری کے تحت ایچ ایم ڈی اے کی جانب سے 450 لاکھ پودے لگائے جارہے ہیں جس پر مالیاتی سال 2022-23 میں 298.09 کروڑ کا خرچ آئے گا۔ آوٹر رنگ روڈ پر ایچ ایم ڈی اے نے گرین کاریڈار تیار کیا ہے جو 158 کیلو میٹر پر محیط ہے۔ سرویس روڈ اور ریلوے کاریڈارس پر جملہ 71.15 لاکھ پودے لگائے گئے۔ آوٹر رنگ روڈ پر پودوں کی نگہداشت کیلئے ڈرپ اریگیشن کو ترقی دی گئی ہے۔ اس پروگرام پر عمل آوری سے 5.09 کروڑ کی سالانہ بچت ہوگی اور سالانہ 6.09 لاکھ لیٹر پانی کی بچت ہوگی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شہری علاقوں میں 16 فاریسٹ بلاک تیار کئے گئے ہیں اور ان میں سے 6 پارکس کو عوام کیلئے کھول دیا گیا ہے۔ قومی شاہراہوں، ریاستی شاہراہوں، آر اینڈ بی روڈس اور ایچ ایم ڈی اے روڈس پر 2022-23 کے دوران حکومت نے 500 لاکھ پودے لگانے کا نشانہ مقرر کیا ہے۔ مختلف علاقوں میں 42 نرسریز کو ترقی دی گئی ہے۔ تیلاپور نرسری جو ایچ ایم ڈی اے کے حدود میں واقع ہے اس کا شمار ریاست کی بہترین نرسریز میں ہوتا ہے۔ ایچ ایم ڈی اے کے حدود میں 14 تالابوں اور جھیلوں کو ترقی دی گئی۔ ایچ ایم ڈی اے کی جانب سے 39 اربن پارکس کی نگہداشت کی جاتی ہے جن میں این ٹی آر گارڈن، سنجیویا پارک، نیکلس روڈ اور شہر میں واقع اربن لنگ اسپیسس شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے تنظیم برائے غذا و زراعت نے حیدرآباد کو ’’ٹری سٹی‘‘ کے ایوارڈ سے نوازا ہے۔ یہ دوسرا موقع ہے جب حیدرآباد کو یہ ایوارڈ حاصل ہوا۔2020 میں پہلی مرتبہ اور 2021 میں دوسری مرتبہ مسلسل یہ ایوارڈ حاصل ہوا۔ ملک کے میگا شہروں میں حیدرآباد شجرکاری اور گرینری کے معاملہ میں سرفہرست ہے۔ فاریسٹ سروے آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق حیدرآباد میں 48.66 کیلو میٹر علاقے کو سرسبز و شاداب بنایا گیا ہے۔ر