شردھا واکر قتل کیس : آفتاب کا اعترافِ جرم

   

نئی دہلی :شردھا واکر قتل کیس میں دہلی پولیس ملزم آفتاب امین پونہ والا سے لگاتار پوچھ تاچھ کر رہی ہے۔ پوچھ تاچھ کے دوران پولیس کو آفتاب نے کئی حیرت انگیز باتیں بتائی ہیں جو شردھا کے بہیمانہ قتل سے جڑی ہوئی ہیں۔اس نے شردھا کے قتل سے متعلق نہ صرف جرم قبول کرلیا ہے، بلکہ یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ اس نے نعش کے کئی ٹکڑے کرنے میں 10 گھنٹے خرچ کیے۔ آفتاب کا کہنا ہے کہ اس نے شردھا کی نعش کے ٹکڑے کرنے کے بعد چہرے کو جلا دیا تھا تاکہ اس کی شناخت نہ ہو سکے۔واضح رہے کہ ممبئی کی شردھا واکر آفتاب کے ساتھ دہلی کے مہرولی میں واقع ایک فلیٹ میں لیو۔اِن میں رہتی تھی۔ الزام ہے کہ آفتاب نے 18 مئی کو شردھا کا گلا دبا کر قتل کر دیا تھا۔ آفتاب کے مطابق شردھا اس پر شادی کے لیے دباؤ ڈال رہی تھی اس لیے قتل کا واقعہ انجام دیا۔ پھر نعش کے 35 ٹکڑے کیے اور اس نے ٹکڑوں کو رکھنے کے لیے ایک فریج کی بھی خریداری کی تھی۔ اس فریج میں لاش کے ٹکڑوں کو رکھا اور روزانہ رات میں نعش کے کچھ ٹکڑوں کو مہرولی میںواقع جنگل میں پھینکنے جاتا تھا۔ اس نے ایسا تقریباً 20 دنوں تک کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ آفتاب اس دوران دوسری لڑکیوں کے ساتھ بھی رابطہ میں تھااور انھیں بھی اپنے گھر پر بلاتا تھا۔آفتاب کے ریمانڈ میں مزید پانچ دن کی توسیع کے علاوہ نارکو ٹسٹ کی بھی منظوری دی گئی۔