صدر جمعیۃ العلماء حافظ محمد لئیق خان کا چیف منسٹر کے سی آر کو مکتوب
نظام آباد : صدر جمعیۃ العلماء حافظ محمد لئیق خان نے آج ضلع کلکٹر مسٹر نارائن ریڈی کے ذریعہ چیف منسٹر تلنگانہ چندر شیکھر رائو کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے مسجد خواجہ محمود کی فوری تعمیر کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت سیکولرازم کے نام پر اب تک 7 مساجد کو شہید کرچکی ہے ، حکومت کے اس رویہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے حافظ لئیق خان نے کہا کہ حکومت کے بغیر اشارہ یہ کام نہیں ہوسکتا ، اگر حکومت اس واقعہ میں ملوث نہیں ہے تو فوری اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر وزیر بلدی نظم و نسق ہے اس بارے میں انہیں مکمل طور پر جانکاری ہوگی اگر انہیں جانکاری نہیں ہے تو فوری عہدیداروں کے خلاف کارروائی کریں ورنہ انہیں بھی برابر کا ذمہ دار سمجھا جائیگا۔ حافظ لئیق خان نے مسجد خواجہ محمود میں گذشتہ دو سالوں سے پنج وقتہ نماز ادا کی جارہی تھی راتوں رات مسجد کو شہید کرنا سراسر غلط ہے ۔ غیر مجاز طور پر مسجد تعمیر کی گئی تو بلدی عہدیدار خاموش کیوں تھے لیکن آج مسجد کو شہید کرنے کی کیا ضرورت پڑی ۔ مسجد میں مقدس قرآن مجید تھی اس کا لحاظ نہ رکھتے ہوئے اسے شہید کردیا گیا ۔ جمعیۃ العلماء مسجد کی شہادت کے واقعہ کا سخت نوٹ لی ہے ۔ چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھر رائو اس واقعہ میں کوئی کارروائی نہیں کرتے ہیں تو جمعیۃ العلماء ریاست گیر سطح پر احتجاج کو منظم کرے گی حکومت اور کتنے مساجد شہید کرے گی تو اکلیجہ ٹھنڈا ہوگا اس بارے میں بھی حکومت سے سوال کیا ۔ اس موقع پر جمعیۃ العلماء کے سکریٹری حافظ لئیق خان کے علاوہ مفتی ابراہیم و دیگر بھی موجود تھے ۔