جے پور: ایک شخص اپنی بیوی کو کفالت کی رقم ادا کرنے کیلئے 55 ہزار روپے کے سکے لیکر عدالت پہنچا۔ عدالت میں موجود ہر شخص سکوں کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ جب بیوی کی طرف سے اس کی مخالفت کی گئی تو شوہر نے کہا کہ یہ ہندوستانی قانونی کرنسی ہے اس لیے اسے قبول کرنا چاہیے۔ عدالت نے شوہرکو حکم دیا کہ اگلی تاریخ کو سکے گنوائے جائیں اور1000 روپے کے تھیلی بنانے اور بیوی کو دینے کی ہدایت دی۔ عدالت نے اس معاملے میں اگلی تاریخ 26 جون دی ہے۔ شوہر دشرتھ کماوت کے وکیل رمن گپتا نے اس دوران کہا یہ پورا معاملہ خاندانی تنازعہ سے جڑا ہوا ہے۔ دشرتھ کی شادی 10 سال قبل سیما سے ہوئی تھی۔ شادی کے 3 سے 4 سال بعد دونوں میں جھگڑا شروع ہوا۔ شوہر نے عدالت میں طلاق کیلئے درخواست دی، مقدمہ کی سماعت کے دوران فیملی عدالت نے شوہرکو ہدایت کی کہ وہ ہر ماہ بیوی کو 5 ہزار روپے بطورکفالت ادا کرے لیکن شوہر گزشتہ 11 ماہ سے بیوی کو یہ رقم نہیں دے رہا تھا۔
عدالت نے شوہر کے خلاف ریکوری وارنٹ جاری کردیا تھا ، رقم کی عدم ادائیگی پر نوٹس کو وارنٹ گرفتاری میں تبدیل کردیا گیا، بالآخر ملزم کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا تاہم رقم کی ادائیگی کے بعد عدالت نے شوہرکو رہا کر دیا۔ شوہر ضمانت پر ہے اور یہ مقدمہ جے پور کی فیملی کورٹ1 میں چل رہا ہے۔ عدالت کی تعطیلات کی وجہ سے اس بار مقدمہ کی سماعت لنک کورٹ جے پور مہانگر 1 میں ہوئی۔ پولیس نے شوہرکو 17 جون کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا۔ اسی روز لواحقین سات تھیلوں میں ایک اور دو روپے کے سکے لے کر عدالت پہنچے۔ ان تھیلوں کا وزن تقریباً 280 کلوگرام تھا۔ اس پر سیما کماوت کے وکیل رام پرکاش کماوت نے کہا یہ انسانی حرکت نہیں ہے۔ شوہر11 ماہ سے کفالت کی رقم ادا نہیں کر رہا ہے۔ اب وہ اپنی بیوی کو ہراساں کرنے کے لیے 55 ہزار روپے کے سکے لایا ہے۔ انہیں گننے میں صرف 10 دن لگیں گے۔ اس پر عدالت نے شوہرکو ہدایت دی کہ وہ سکوں کی گنتی عدالت میں ہی کروائے اور ایک ایک ہزار روپے مالیت کے سکوں کے تھیلی بنائے۔