شہر حیدرآباد سرمایہ کاری اور بلڈرس کیلئے جنت میں تبدیل

   

گرین تلنگانہ سمیٹ 2025ء سے ڈپٹی چیف منسٹر ملوبھٹی وکرامارک کا خطاب
حیدرآباد ۔ 15 فبروری (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر ملوبھٹی وکرامارک نے کہا کہ حیدرآباد سرمایہ کاروں بالخصوص بلڈرس کیلئے جنت میں تبدیل ہوگیا ہے۔ دنیا کیلئے مثالی ثابت ہونے والا فیوچر سٹی تعمیر کرنے حکومت خصوصی منصوبہ بندی کے ساتھ کام کررہی ہے۔ نوواٹیل ہوٹل میں منعقدہ گرین تلنگانہ سمیٹ 2025ء سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ فیوچرسٹی چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کا ڈریم پراجکٹ ہے۔ حکومت ریاست میں بلڈرس کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ حیدرآباد کو گرین سٹی بنانے کیلئے حکومت کی جانب سے کئی پالیسیاں تیارکی ہیں۔ ترقیافتہ ممالک کے راستے پر تلنگانہ ریاست گامزن ہورہا ہے۔ ریاست کی تاریخ میں پہلی مرتبہ شہر حیدرآباد کی ترقی کیلئے حکومت کی جانب سے 10 ہزار کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ ہماری حکومت ڈریم پراجکٹ فیوچرسٹی کو نیٹ زیروسٹی میں تبدیل کرنے کیلئے آج ایک یادداشت مفاہمت پر دستخط کی ہے۔ یہ دنیا کا پہلا نیٹ زیرو شہر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سبسڈی دی جاتی ہے تو رئیل اسٹیٹ شعبہ مزید تیزی سے توسیع کرتے ہوئے ترقی کرے گا لیکن ہماری حکومت نئی تشکیل شدہ ریاست تلنگانہ کے مستقبل کو ذہن میں رکھتے ہوئے فیصلے کرے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے بلڈرس کو یقین دلایا کہ کانگریس حکومت بلڈرس کو تمام ضروری سہولتیں فراہم کرے گی۔ شہر حیدرآباد کو گرین انرجی میں تبدیل کرنے کیلئے ریونت ریڈی حکومت نے الکٹرک وہیکلس پالیسی کو متعارف کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریونیو میں کمی کے باوجود اس کیلئے سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ ڈیزل کی گاڑیوں کو آہستہ آہستہ ای وی میں تبدیل کرنے کے عمل کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ ملوبھٹی وکرامارک نے کہا کہ موسیٰ ندی ڈیولپمنٹ پراجکٹ شہر کی ترقی میں ایک نیا سنگ میل ثابت ہوگا۔ اس پر کتنے بھی اخراجات ہوں گے اس کو برداشت کیا جائے گا۔ ڈیوس میں ریاست کو 1.80 لاکھ کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری موصول ہوئی ہے۔ مزید سرمایہ کاری ہونے کا دعویٰ کیا۔ ہماری حکومت نے سال 2030 تک 20 ہزار میگاواٹ گرین انرجی کا حدف مقرر کیا ہے۔ 2035ء تک 40 ہزار میگاواٹ حاصل کرنے کی حکمت عملی سے کام کیا جارہا ہے ۔ شہر حیدرآباد میں سڑکوں کی ترقی، لنک ایلولیشن روڈس، فلائی اوورس، میٹروکی توسیع کی جارہی ہے۔2