جی ایچ ایم سی کی نگرانی میں بھاری پولیس جمعیت کے ساتھ کئی مقامات پر کارروائی
حیدرآباد۔18اپریل (سیاست نیوز) شہر میں فٹ پاتھ پر کئے جانے والے قبضہ جات کی برخواستگی کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کے تحت مجلس بلدیہ عظیم ترحیدرآباد کی نگرانی میں دونوں شہروں کے تمام 6 بلدی زونس میں آج پھر سے بڑے پیمانے پر کاروائی کرتے ہوئے فٹ پاتھ پر کاروبار کرنے والے چھوٹے تاجرین کو صبح کی اولین ساعتوں کے دوران برخواست کردیا گیا۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں جاری ان کاروائیوں کے سلسلہ میں عہدیداروں نے بتایا کہ عدالت کے احکامات کی بنیاد پر دونوں شہروں میں فٹ پاتھ کا تخلیہ کرواتے ہوئے فٹ پاتھ کو پیدل راہروؤں کے لئے مختص کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ہفتہ کی صبح اچانک شروع کی گئی اس کاروائی کے دوران بلدی عہدیداروں کی بلڈوزر کاروائیوں نے کئی چھوٹے تاجرین کو ان کے روزگار سے بیدخل کردیا ہے۔ آج کی گئی کاروائی کے دوران جی ایچ ایم سی کے بلڈوزرچھتری ناکہ ‘ کندیکل گیٹ‘ آرام گھر چوارہا‘ مہدی پٹنم ‘ مشیر آباد‘ سلطان بازار کاچی گوڑہ ‘ گڈی ملکا پور‘ نارائن گوڑہ ‘ آندھرا بینک کوٹھی کے علاوہ گاندھی ہاسپٹل و دیگر مقامات پر فٹ پاتھ پر موجود قبضہ جات کو برخواست کیاگیا اور صبح کی اولین ساعتوں میں کی گئی اس کاروائی کے بعد قابضین کو دوبارہ قبضہ کی صورت میں فوجداری مقدمات کے اندراج کا انتباہ دیا گیا۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآبا دکے عہدیداروں کاکہناہے کہ دونوں شہروں میں فٹ پاتھ پر کاروبار کی اجازت قطعی نہیں دی جائے گی کیونکہ پیدل راہرؤوں کے سڑک پر چلنے کے نتیجہ میں حادثات رونما ہونے کے علاوہ ٹریفک کے مسائل پیدا ہونے لگے ہیں اسی لئے فٹ پاتھ کو خالی کرواتے ہوئے پیدل راہروؤں میں فٹ پاتھ کے استعمال کا شعور اجاگر کرنے کی مہم چلائی جائے گی ۔ہفتہ کے دن کی گئی کاروائی کے دوران کئی اہم سڑکوں کے کناروں پر موجود قبضہ جات کو ہٹادیا گیا اور کئی مقامات پر تاجرین کو بلدیہ کی اس کاروائی پر برہمی کا اظہار کرتے دیکھاگیا۔متاثرین نے بلدیہ کی کاروائی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں متبادل مقام کی فراہمی کے بغیر ان کے کاروبار سے بے دخل کیا گیاہے اور انہیں سامان ہٹانے کی مہلت تک فراہم نہیں کی گئی جس کے نتیجہ میں ان کالاکھوں روپئے کا نقصان ہوا ہے۔بلدی عہدیداروں نے بتایا کہ کئی مصروف ترین سڑکوں پر غیر قانونی طریقہ سے فٹ پاتھ پر کاروبار کے لئے کرایہ وصول کیا جار ہاہے اوربلدی عہدیدار اب ان کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے خلاف بھی جبری وصولی کے مقدمات درج کروانے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں موجود چارمینار‘ گولکنڈہ ‘ راجندر نگر ‘ شمس آباد‘ سکندرآباد اور خیریت آباد زونس میں یہ کاروائی انجام دی گئی جس کی راست نگرانی کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد مسٹر آروی کرنن نے انجام دی ۔3/A/b