حیدرآباد 12 جنوری ( سیاست نیوز ) فراعین مصر کی حنوط کی ہوئی نعشیں ( ممی ) ہمیشہ ہی سے ایک دلچسپ موضوع رہی ہیں ۔ اس پر کئی سوال بھی کئے جاتے ہیں اور ان کی تاریخی اہمیت بھی رہی ہے ۔ ان نعشوں پر دنیا بھر میں اب بھی کئی مطالعات جاری ہیں۔ جو کچھ کہا جاتا ہے اس کے مطابق فراعین مصر یا پھر دولتمند مصری حکمران اپنی نعشوں کو حنوط کرواتے ہوئے محفوظ کروایا کرتے تھے ۔ ان نعشوں کو ممی کہا جاتا ہے ۔ بیشتر افراد کا خیال ہے کہ ان ممیوں ( حنوط کی ہوئی نعشوں) کا مشاہدہ صرف مصر میں یا پھر فلموں میں کیا جاسکتا ہے ۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اسی طرح کی ایک ممی خود اپنے شہر حیدرآباد میں موجود ہے ۔ تلنگانہ اسٹیٹ میوزیم باغ عامہ نامپلی کی پہلی منزل پر پرنسیس نائشو کی حنوط کی ہوئی نعش ( ممی ) رکھی ہوئی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ جنوبی ہند میں صرف یہی ایک ممی ہے ۔ سمجھا جاتا ہے کہ یہ نعش 2100 سے 2400 سال پرانی ہے ۔ سمجھا جاتا ہے کہ یہ چھٹے فرعون مصر کی دختر کی نعش ہے ۔ جس وقت اس کا انتقال ہوا اس کی عمر 25 سال تھی ۔ اس کی ممی کو حال ہی میںایک ائر ٹائیٹ شیشے سے نائیٹروجن چیمبر میں منتقل کیا گیا ہے ۔ پرنسیس نائشو کی ممی کو چھٹے نظام میر محبوب علی خان کے داماد نظیر نواز جنگ حیدرآباد لائے تھے تاکہ آصف سابع نواب میر عثمان علی خان کو بطور تحفہ پیش کرسکیں۔ یہ ممی اسٹیٹ میوزیم میں موجود ہے جس کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے ۔ یہ میوزیم صرف جمعہ اور دوسری عوامی تعطیلات کے سوا تمام ایام میں10.30 بجے دن سے شام 5 بجے تک کھلا ہے اور یہاں داخلہ ٹکٹ صرف 10 روپئے اور بچوں کیلئے صرف 5 روپئے ہے ۔