بلدیہ کو حکومت سے فنڈز کی اجرائی کا انتظار ۔ سابقہ حکومت نے فنڈز جاری نہیں کئے تھے
حیدرآباد۔23جنوری(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں زیر تعمیر ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی تعمیر مکمل کرنے بلدیہ حیدرآباد کو 1500 کروڑ روپئے درکار ہیں ۔ اس کے علاوہ کنٹراکٹرس کے بلز کی اجرائی کیلئے 400 کروڑ درکار ہیں ۔ مجموعی طور پر 1900 کروڑ کی اجرائی کے بعد ہی شہر میں جاری 30 ہزار ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی تعمیر مکمل ہوپائے گی۔ جی ایچ ایم سی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ حکومت سے گذشتہ دیڑھ برس سے رقومات کی عدم اجرائی کے سبب اس اسکیم کے تحت فلیٹس کو مکمل نہیں کیاجاسکا ہے۔ سابقہ حکومت نے بلدیہ حیدرآباد کے حدود میں جملہ 1 لاکھ ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی تعمیر کا اعلان کیا تھا جس میں اب تک 68 ہزار 841 فلیٹ کی تعمیر مکمل کرکے انہیں الاٹ کیا جاچکا ہے اب مزید 31ہزار فلیٹس کی تعمیر باقی ہے ۔ حکام کے مطابق جو فلیٹس الاٹ کئے جاچکے ہیں ان میں بعض کے کام ابھی باقی ہیں جنہیں مکمل کرنے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ جی ایچ ایم سی سے حکومت کو درکار فنڈس کی تفصیلات روانہ کردی گئی ہیں اور کہا گیا ہے کہ اگر 1900کروڑ جاری کئے جاتے ہیں تو جی ایچ ایم سی مابقی 31 ہزار فلیٹس کی تعمیر کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی تعمیر میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے اب تک 7000 کروڑ روپئے خرچ کرکے 68 ہزار 841 فلیٹس کی تعمیر کی جاچکی ہے ۔ عہدیدار کا جو اس امکنہ اسکیم کی نگرانی کر رہے ہیں کہناہے کہ اب تک جو فلیٹس تعمیر کئے گئے ہیں ان میں کولور‘ چیرلہ پلی‘ امین پور‘ بہادرپلی‘ دنڈیگل‘ شنکر پلی نلہ گندلہ ‘ چیتنیہ نگر اور دیگر علاقوں میں تعمیرات مکمل ہوچکی ہیں اور کئی علاقوں میں عمارتیں تیار ہیں لیکن معمولی کام باقی ہیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ کنٹراکٹرس بلوں کی اجرائی کیلئے حکومت کو متعدد مرتبہ توجہ دلائی جاچکی ہے اور حکومت نے بلوں کو منظوری بھی دے دی ہے لیکن جی ایچ ایم سی کو بجٹ کی عدم وصولی کی بناء پر یہ کام زیر التواء ہیں ان کی تکمیل کیلئے فوری اقدامات کیلئے کارروائی کی جا رہی ہے اور اگر موجودہ حکومت سے بجٹ میں رقومات فراہم کی جاتی ہیں تو جلد ہی نئے فلیٹس کی تعمیر کا بھی آغاز کردیا جائے گا۔3