شہر میں گنیش وسرجن جلوس کا پرامن اختتام ۔ عوام کی تعداد میں کمی

   

حیدرآباد : /19 ستمبر (سیاست نیوز) مرکزی گنیش وسرجن جلوس ج پرامن اختتام کو پہنچا اور اس سال مقررہ وقت سے قبل ہی مورتیوں کا وسرجن کیا گیا ۔ بالاپور گنیش مورتی کے ساتھ وسرجن جلوس کا اتوار کی صبح 9 بجے آغاز ہوا اور سینکڑوں بھکتوں نے تیزی سے وسرجن عمل میں لایا ۔ حالانکہ ہر سال وسرجن جلوس دوسرے دن بھی جاری رہتا ہے لیکن اس سال پیر کو ’’پترو پکشا شردھ‘‘ کے نتیجہ میں وسرجن جلد مکمل کردیا گیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ پترو پکشا شردھ جو بدشگون مانا جاتا ہے اس کے پیش نظر ہفتہ کی شب ہی شہر کی تقریباً مورتیوں کا وسرجن کردیا گیا تھا ۔ اس سال مرکزی جلوس میں گزشتہ سالوں کے تقابل سے عوام کی تعداد کم تھی ۔ بھاگیہ نگر گنیش اُتسو سمیتی سے پولیس سے اپیل کی گئی تھی کہ پیر کو بدشگونی کے نتیجہ میں اتوار کو رات دیر تک مورتیوں کے وسرجن میں پولیس اور دیگر حکام تعاون کریں ۔ اس موقع پر سٹی پولیس نے 22 ہزار سے زائد پولیس عملہ کو تعینات کردیا تھا اور سینئر آئی پی ایس عہدیدار جو تعیناتی کے منتظر تھے انہیں بھی سٹی پولیس سے اٹاچ کیاگیا تھا ۔ اس سال بالاپور گنیش 3 بجے دن تاریخی چارمینار کو پارکرگیا تھا اور شام 7.10 بجے بالاپور گنیش کا حسین ساگر جھیل میں وسرجن کردیا گیا ۔ اس موقع پر سکیورٹی کے وسیع انتظامات کئے گئے تھے اور جی ایچ ایم سی کے علاوہ حیدرآباد واٹر ورکس کی جانب سے بھی بھکتوں کو پانی پلانے خصوصی انتظامات کئے گئے تھے ۔ ڈائرکٹر جنرل پولیس مہندر ریڈی نے کمانڈ کنٹرول سنٹر سے وسرجن جلوس پر سی سی ٹی وی کے ذریعہ نظر رکھتے ہوئے اپنے ماتحتوں کو احکامات جاری کئے ۔ جبکہ پولیس کمشنر حیدرآباد انجنی کمار نے بھی سٹی کمانڈ کنٹرول سنٹر سے جلوس پر نظر رکھتے ہوئے مورتیوں کے وسرجن کیلئے ٹریفک کو باقاعدہ بنانے کے احکام جاری کئے ۔ اس سال پولیس نے 10 فٹ اونچے اور 10 فٹ سے کم گنیش مورتیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے متعلقہ لاریوں پر اسٹیکرس چسپاں کئے گئے ۔ ٹینک بنڈ کے علاوہ پی وی نرسمہا راؤ مارگ پر مورتیوں کا وسرجن کیا گیا ۔B