شہر میں ہوٹلس اور ریسٹورنٹس کُھل گئے لیکن گاہکوں کا انتظار

   

Ferty9 Clinic

لاکھوں روپئے کرایوں کے بارے میں مالکین فکرمند، کئی ہوٹلوں کے بند ہونے کا اندیشہ
حیدرآباد۔/9 جون ، ( سیاست نیوز) حکومت نے طویل لاک ڈاؤن کے بعد ہوٹلس اور ریسٹورنٹس کو کھولنے کی اجازت دے دی ہے لیکن آج مسلسل دوسرے دن بھی شہر میں بڑی ہوٹلس اور ریسٹورنٹس کے مالکین کو گاہکوں کا انتظار رہا۔ کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ اور ہجوم کے مقامات پر سے گریز کرنے کی سرکاری ہدایات کے بعد عوام اپنے پسندیدہ کھانوں کیلئے ہوٹلس اور ریسٹورنٹس کا رُخ کرنے سے گریز کررہے ہیں۔ شہر کے مصروف علاقوں میں واقع عالیشان ہوٹلس اور ریسٹورنٹس نے بڑی اُمید کے ساتھ اپنے کاروبار کا آغاز کیا تھا لیکن طویل لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں عوام باہر کے کھانوں سے نہ صرف گریز کررہے ہیں بلکہ کئی افراد ایسے ہیں جو لاک ڈاؤن کے سبب معاشی مسائل کا شکار ہیں۔ ان حالات میں بنجارہ ہلز، جوبلی ہلز، ہائی ٹیک سٹی اور اس کے اطراف و اکناف کے علاقوں میں واقع نامور ریسٹورنٹس کے مالکین کو لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے باوجود مایوسی ہوئی ہے۔ مالکین کو یقین تھا کہ طویل لاک ڈاؤن کے بعد عوام اپنے پسندیدہ ڈشیس کیلئے ہوٹلوں کا رُخ کریں گے۔ ایک طرف ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں گاہکوں کی کمی ہے تو دوسری طرف مالکین کو ماہانہ کرایہ کی ادائیگی کی فکر ہے۔ شہر کے پاش علاقوں میں ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کا کرایہ ماہانہ 5 تا 7 لاکھ روپئے ہے جبکہ دیگر علاقوں میں یہ 2 لاکھ سے کم نہیں۔ کاروبار کے آغاز کے ساتھ ہی جائیداد مالکین کی جانب سے کرایہ کی ادائیگی کیلئے دباؤ بنایا جارہا ہے جس کے سبب ہوٹل انتظامیہ پریشان ہے۔ ایک طرف اُسے روزانہ کے ملازمین کی تنخواہوں کا انتظام کرنا ہے تو دوسری طرف ماہانہ کرایہ کی ادائیگی کی فکر کھائے جارہی ہے۔ کئی ہوٹل مالکین نے بتایا کہ کم ملازمین کو رکھنے کے باوجود دیگر اخراجات کو چھوڑ کر ملازمین کی تنخواہوں کا نکلنا بھی مشکل ہوچکا ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ صورتحال کی بہتری کیلئے مزید دو تا تین ماہ لگ جائیں گے۔ پرانے شہر کے علاقوں میں واقع مشہور ہوٹلس اور ریسٹورنٹس بھی عام حالات کی طرح کاروبار سے محروم ہیں۔ اگر یہی رجحان جاری رہا تو اندیشہ ہے کہ کئی ریسٹورنٹس اور ہوٹلس کے مالکین کاروبار ترک کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ گذشتہ دو دنوں کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کئی ہوٹل مالکین نے دوبارہ کاروبار کو کچھ وقفہ کیلئے مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شہر کے ایک مشہور ریسٹورنٹ جس کے تین مراکز ہیں ان کے مالک کا کہنا ہے کہ کورونا کیسس کے اضافہ سے عوام خوفزدہ ہیں ۔ تینوں مراکز میں روزانہ بمشکل 100 گاہک آرہے ہیں اور اُن میں بھی زیادہ تر ٹیک اوے کیلئے آتے ہیں۔ ان حالات میں ہوٹل کا روزانہ کا مینٹننس خرچ اور ملازمین کی تنخواہیں نکلنا بھی دشوار ہوچکا ہے۔ اکثر ہوٹلوں میں عوام کو ٹیک اوے کو ترجیح دیتے دیکھا گیا۔