ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواست ، مفت علاج یقینی بنانے حکومت کا تیقن
حیدرآباد۔/27 جولائی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے ہائی کورٹ کو بھروسہ دلایا کہ شہر کے دو اہم دواخانوں میں غریبوں کیلئے مفت علاج کو یقینی بنایا جائے گا۔ تین دہے قبل حکومت کی جانب سے دونوں ہاسپٹلس کو اراضی الاٹ کرتے وقت یہ وعدہ لیا گیا تھا کہ غریب مریضوں کا علاج مفت کیا جائے گا۔ عدالت سے حکومت نے وعدہ کیاکہ محکمہ صحت کی جانب سے دونوں کارپوریٹ ہاسپٹلس میں وعدہ کی تکمیل کی نگرانی کی جائے گی۔ چیف جسٹس اوجل بھویاں اور جسٹس ایس نندا پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے اگسٹ 2020 میں دائر کردہ مفاد عامہ کی درخواست کی سماعت کی جس میں شکایت کی گئی کہ جوبلی ہلز میں واقع اپولو ہاسپٹل اور بنجارہ ہلز میں واقع بسوا تارکم میموریل کینسر ہاسپٹل نے کبھی بھی وعدہ کی تکمیل نہیں کی اور مریضوں کو ایڈمیشن کے وقت بھاری رقم ڈپازٹ کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرساد نے عدالت کو جی او ایم ایس 80 مورخہ 6 جولائی حوالے کیا جس میں اپولو ہاسپٹلس کیلئے 15 فیصد اور بسوا تارکم کینسر ہاسپٹل میں 25 فیصد مریضوں کے مفت علاج کا پابند کیا گیا تھا۔ روزانہ 40 فیصد فری آؤٹ پیشنٹ خدمات کے علاوہ یہ پابندی عائد کی گئی تھی۔ فری علاج میں بیڈس اور آپریشن بھی شامل ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ اراضی کے الاٹمنٹ کے وقت دونوں ہاسپٹلس نے یہ تیقن دیا تھا۔ درخواست گذار نے بتایا کہ اپولو ہاسپٹلس 1500 کروڑ جبکہ بسوا تارکم 400 کروڑ مالیتی اراضی اپنی تحویل میں رکھتے ہیں۔ درخواست گذار کے وکیل نے بتایا کہ حکومت نے اپولو ہاسپٹل کی ہولڈنگ کمپنی دکن میڈیکل سنٹر کیلئے 30 ایکر اراضی اور بسوا تارکم کیلئے 7.5 ایکر اراضی حوالے کی تھی۔ ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو تیقن دیا کہ حکومت دونوں ہاسپٹلس کو وعدہ پر عمل آوری کا پابند بنائے گی۔ر