شہر کے 4 اسمبلی حلقہ جات توجہ کا مرکز، مجلسی قیادت کی پالیسی پر سوالیہ نشان

   

راجہ سنگھ کے خلاف امیدوار نہیں، جوبلی ہلز میں مسلمان کو شکست دینے کی کوشش، نامپلی اور ملک پیٹ میں کانگریس سے راست مقابلہ

حیدرآباد۔/12 نومبر، ( سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے تحت 24 اور حیدرآباد ضلع کے تحت 15 اسمبلی حلقہ جات ہیں جن کی انتخابی مہم عروج پر ہے۔ حلقہ لوک سبھا حیدرآباد کے تحت 7 اور حلقہ لوک سبھا سکندرآباد کے تحت 8 اسمبلی نشستیں ہیں لیکن 4 اسمبلی حلقہ جات پر عوام کی نظریں مرکوز ہیں کیونکہ ان حلقہ جات میں دلچسپ مقابلہ کا امکان ہے۔ نامپلی، جوبلی ہلز، گوشہ محل اور ملک پیٹ اسمبلی حلقہ جات کی انتخابی مہم پر نہ صرف عوام بلکہ سیاسی مبصرین کی گہری نظر ہے۔ شہر کی مقامی جماعت مجلس کی سیاسی حکمت عملی اور کانگریس کی جانب سے مسلم امیدواروں کو میدان میں اُتارنے سے مقابلہ دلچسپ بن چکا ہے جبکہ گوشہ محل میں مجلس کی جانب سے راجہ سنگھ کے خلاف امیدوار کھڑا نہ کرنے پر مسلمانوں میں ناراضگی دیکھی جارہی ہے۔ حیدرآباد کے بیشتر اسمبلی حلقہ جات میں گذشتہ دو اسمبلی انتخابات میں مقابلہ بی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان رہا اور کانگریس پارٹی کمزور موقف میں تھی لیکن اس مرتبہ شہر کے اسمبلی حلقہ جات میں بی جے پی تیسرے مقام پر پہنچ چکی ہے اور کانگریس نے اپنا موقف مستحکم کرتے ہوئے برسراقتدار بی آر ایس اور اس کی حلیف مجلس کیلئے راست چیلنج کھڑا کردیا ہے۔ مسلمانوں اور اسلام کے خلاف ملعون راجہ سنگھ کی مسلسل زہرافشانی سے سارا ملک واقف ہے اور ایک مرحلہ پر بی جے پی قیادت کو راجہ سنگھ کے خلاف معطلی کی کارروائی پر مجبور ہونا پڑا۔ بی جے پی کیلئے راجہ سنگھ ووٹ حاصل کرنے کا اہم ذریعہ ہے لیکن اس کی گستاخیاں حد سے تجاوز کرچکی تھی جس کے سبب بی جے پی کو تقریباً دیڑھ سال تک راجہ سنگھ کو معطل رکھنا پڑا۔ قیاس آرائی کی جارہی تھی کہ بی جے پی راجہ سنگھ کو اس مرتبہ ٹکٹ نہیں دے گی لیکن پارٹی کے کمزور موقف نے قیادت کو مجبور کردیا کہ راجہ سنگھ کی معطلی ختم کرتے ہوئے اسے دوبارہ امیدوار بنایا جائے کیونکہ بی جے پی کیلئے گوشہ محل ایک محفوظ نشست کی طرح ہے۔ مسلمان امید کررہے تھے کہ راجہ سنگھ کے خلاف مجلس اپنا امیدوار میدان میں اُتارے گی تاکہ اس کی شکست کو یقینی بنایا جاسکے۔ ایسا نہیں ہے کہ گوشہ محل میں مسلم رائے دہندے نہ ہوں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس حلقہ میں 25 فیصد سے زائد مسلم رائے دہندے ہیں جو متحدہ رائے دہی کے ذریعہ راجہ سنگھ کی شکست کو یقینی بناسکتے ہیں۔ مجلس کا ہیڈکوارٹر دارالسلام اسی حلقہ کے تحت آتا ہے اور حلقہ لوک سبھا حیدرآباد کے تحت گوشہ محل موجود ہے لیکن مجلسی قیادت نے مقابلہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ مقابلہ نہ کرنے کی وجوہات آج تک عوام پر واضح نہیں کی گئیں اور بی آر ایس کی جانب سے کمزور امیدوار کھڑا کرنے سے عام مسلمانوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ بی آر ایس اور مجلس دونوں راجہ سنگھ کی شکست کے حق میں نہیں ہیں۔ مسلم جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے مجلسی قیادت سے نمائندگی کے باوجود امیدوار کھڑا نہیں کیا گیا حالانکہ کئی افراد نے مجلس کے ٹکٹ پر راجہ سنگھ کے خلاف مقابلہ کا پیشکش کیا تھا۔ بی ایس پی نے ایک مسلم مذہبی شخصیت کو راجہ سنگھ کے خلاف میدان میں اُتارا ہے لیکن رائے دہندوں پر اثرانداز ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔ دوسری طرف جوبلی ہلز میں جہاں کانگریس نے مشہور کرکٹر محمد اظہر الدین کو امیدوار بنایا وہاں مجلس نے اپنے کارپوریٹر کو امیدوار بناتے ہوئے اظہر الدین کی کامیابی میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ جوبلی ہلز اسمبلی حلقہ میں مسلم رائے دہندے فیصلہ کن موقف رکھتے ہیں اور اگر مجلس ووٹ تقسیم کرنے سے باز رہتی تو اظہر الدین کی کامیابی یقینی تھی۔ مجلس کے امیدوار کے باوجود مقامی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ مجلس کی سازش کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔ جوبلی ہلز کے مسلم رائے دہندوں کو بی آر ایس امیدوار کی تائید کی ترغیب دی جارہی ہے لیکن رائے دہندوں کی اولین ترجیح اظہر الدین دکھائی دیتے ہیں۔ مسلمانوں کی نمائندگی کا دم بھرنے والی مجلسی قیادت نے جوبلی ہلز میں اظہر الدین کے خلاف مقابلہ کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا ہے کہ مقابلہ کا مقصد مسلمان کو کامیابی سے روکنا ہے۔ اظہر الدین کو انتخابی مہم کے دوران عوام کی غیر معمولی تائید حاصل ہورہی ہے اور عجب نہیں کہ مسلمان خاموشی سے اظہر الدین کے حق میں ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے مجلس کے منصوبہ کو ناکام بنادیں گے۔ نامپلی اسمبلی حلقہ میں مجلس اور کانگریس کے درمیان کانٹے کی ٹکر ہے اور انتخابی مہم کے دوران روزانہ صورتحال تبدیل دکھائی دے رہی ہے۔ گذشتہ تین اسمبلی انتخابات سے مقابلہ کرنے والے کانگریس کے امیدوار فیروز خاں کے خلاف مختلف آڈیو اور ویڈیو وائرل کرتے ہوئے کامیابی کے امکانات کو متاثر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کانگریس کی بڑھتی مقبولیت اور مقامی رکن اسمبلی کی عدم کارکردگی سے عوامی ناراضگی کو محسوس کرتے ہوئے مجلسی قیادت نے امیدوار تبدیل کردیا ہے۔ نامپلی کے مسلم اور غیر مسلم رائے دہندوں میں کانگریسی امیدوار کے حق میں ہمدردی کی لہر دیکھی جارہی ہے لیکن مجلس مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ امیدوار کی تبدیلی کے باوجود کانگریس کے موقف میں کوئی خاص کمی نہیں آئی ہے۔ چوتھا اسمبلی حلقہ ملک پیٹ ہے جہاں اس مرتبہ کانگریس نے ایک مضبوط امیدوار میدان میں اُتارتے ہوئے اپنی طاقت جھونک دی ہے۔ کانگریس پارٹی مسلمانوں کے علاوہ اکثریتی طبقہ کے رائے دہندوں کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ حلقہ میں بی جے پی کے موقف میں کمزوری کا راست فائدہ کانگریس پارٹی کو ہوا ہے۔ مجلسی قیادت نے نامپلی اور ملک پیٹ پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔