کانگریس پارٹی کا الزام، اقلیتی قائدین کے وفد نے بنجارہ ہلز کے کارپوریٹ ہاسپٹل کا دورہ کیا
حیدرآباد۔ /3 ستمبر، ( سیاست نیوز) پردیش کانگریس کمیٹی نے الزام عائد کیا کہ کارپوریٹ ہاسپٹلس مریضوں اور ان کے رشتہ داروں سے بلنگ کے نام پر منظم لوٹ میں ملوث ہیں۔ پردیش کانگریس کمیٹی میناریٹی ڈپارٹمنٹ کے صدرنشین شیخ عبداللہ سہیل کی قیادت میں کانگریس قائدین کے ایک وفد نے آج بنجارہ ہلز کے ایک خانگی ہاسپٹل پہنچ کر ایک مریض کی جانب سے زائد بل وصول کرنے کے معاملہ کی تفصیلات حاصل کی۔ ان کے ہمراہ حیدرآباد سٹی کانگریس میناریٹی ڈپارٹمنٹ کے صدرنشین سمیر ولی اللہ ، رنگاریڈی ضلع کے صدرنشین محمد ریاض اور دیگر قائدین موجود تھے۔ کانگریس قائدین نے ہاسپٹل کے حکام سے ملاقات کی اور زائد بل کی وصولی کے بارے میں استفسار کیا۔ حکام نے تفصیلی جواب دینے کیلئے چار دن کا وقت مانگا اور تیقن دیا کہ اگر کوئی خامیاں ہوں تو انہیں درست کردیا جائے گا۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے عبداللہ سہیل نے کہا کہ شہر میں بنجارہ ہلز کا یہ واحد کارپوریٹ ہاسپٹل نہیں جہاں زائد بل کی وصولی کی شکایات مل رہی ہیں۔ دیگر کارپوریٹ اور خانگی ہاسپٹلس میں بھی اسی طرح کی شکایات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قواعد اور انسانی ہمدردی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کارپوریٹ ہاسپٹلس مریضوں کو لوٹ رہے ہیں۔ وہ مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کے جذبات سے کھلواڑ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہاسپٹلس جبراً وصولی کے مراکز میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ کانگریس قائدین نے کہا کہ اگر کوئی مریض کارپوریٹ ہاسپٹل جاتا ہے تو اس سے کنسلٹیشن فیس کے نام پر 500 روپئے وصول کئے جاتے ہیں اور یہ صرف ایک ہفتہ کیلئے کارگر ہوتی ہے۔ اگر ایک ہفتہ بعد مریض پہنچے تو اس سے دوبارہ فیس لی جاتی ہے۔ اگر یہی مریض ہاسپٹل میں شریک کیا جائے تو وہی ڈاکٹر روزانہ ویزٹ کیلئے 1200 تا 1500 روپئے وصول کرتا ہے۔ دیگر ڈاکٹرس کے معائنہ کی صورت میں ان کے کنسلٹیشن چارجس بھی وصول کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے اِن پیشنٹ اور آؤٹ پیشنٹس کیلئے کارپوریٹ ہاسپٹل میں ادویات کیلئے مختلف قیمتوں کی شکایت کی۔ ادویات کی قیمت مریض کے موقف کے اعتبار سے مقرر کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آکسیجن سلینڈر اگر گھر پر حاصل کیا جائے تو روزانہ 300 روپئے چارج کئے جاتے ہیں لیکن ہاسپٹل میں ساڑھے تین ہزار تا پانچ ہزار روزانہ چارج کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملیریا ،ڈینگو اور دیگر وبائی امراض کیلئے ورنچی ہاسپٹل میں چار تا پانچ دن کے اِن پیشنٹ سے 40 تا 50 ہزار اور بعض سنگین امراض میں روزانہ ایک لاکھ روپئے تک وصول کئے جارہے ہیں۔ عبداللہ سہیل نے کہا کہ عوام سے اس طرح کی لوٹ غیر انسانی اور سنگین معاملہ ہے۔ تلنگانہ حکومت کارپوریٹ اور خانگی ہاسپٹلس پر کنٹرول کیلئے کوئی اقدامات کرنے سے قاصر ہے۔ قواعد کے اعتبار سے ہاسپٹلس کو علاج کی فیس کی تفصیلات ڈسپلے کرنی چاہیئے لیکن کوئی بھی ہاسپٹل اس کی پابندی نہیں کررہا ہے۔ کانگریس قائدین نے بڑے پیمانے پر احتجاج کی دھمکی دی۔
