2 نومبر سے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کا دورہ،سی پی آئی ریاستی سکریٹری سامبا سیوا راؤ کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔29 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری کے سامبا سیوا راؤ نے ریاست بھر کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دینے کا حکومت سے مطالبہ کیا اور کہا کہ ایل نینو کی صورتحال سے محض چند اضلاع نہیں بلکہ ساری ریاست متاثر ہوئی ہے ۔ سی پی آئی ریاستی سکریٹریٹ کے ارکان وی ایس بوس اور ایم بال نرسمہا کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سامبا سیوا راؤ نے کہا کہ خشک سالی کی صورتحال سے عوام کو بچانے کیلئے مرکز اور ریاست کو مشترکہ طور پر امدادی پیکیج کا اعلان کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال کا استحصال کرتے ہوئے زرعی شعبہ کے لئے درکار کھاد اور بیج کی بلیک میں فروخت کو روکنے کیلئے حکومت کو اقدامات کرنے چاہئے ۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ سیاسی تنقیدوں کے بجائے عوام کو صورتحال سے بچانے پر توجہ مرکوز کریں۔ انہوں نے کہا کہ ساری ریاست کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دیتے ہوئے مرکز سے امدادی فنڈس حاصل کرنے کی مساعی کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ خشک سالی کی صورتحال صرف دیہی علاقوں تک محدود نہیں بلکہ شہری علاقوں میں بھی کئی شعبہ جات متاثر ہوئے ہیں۔ حیدرآباد میں تعمیری شعبہ سے وابستہ ورکرس اور لیبر روزگار سے محروم ہوئے۔ آٹو ڈرائیورس اور دیگر شعبہ کے لیبرس کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ سامبا سیوا راؤ نے غیر منظم شعبہ کے ورکرز کے لئے خشک سالی الاؤنس کے طور پر 15 ہزار روپئے کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اشیائے ضروری اور غذائی اجناس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوچکا ہے ۔ انہوں چاول اور دیگر غذائی اجناس کی قیمتوں پر قابو پانے کے لئے حکومت سے اقدامات کی اپیل کی۔ خشک سالی کی صورتحال کا بنیادی سطح پر جائزہ لینے کیلئے 3 اور 4 نومبر کو سی پی آئی قائدین مختلف اضلاع کا دورہ کریں گے۔ 10 نومبر کو ضلع ہیڈکوارٹرس پر دھرنا منظم کرتے ہوئے خشک سالی امدادی کاموں کا مطالبہ کیا جائے گا ۔ انہوں نے اندراماں ہاؤزنگ اسکیم کے تحت مکانات کے الاٹمنٹ میں سیاسی مداخلت کم کرنے کا مطالبہ کیا۔ سامبا سیوا راؤ نے بتایا کہ گریجویٹ ایم ایل سی انتخابات میں مقابلہ کرنے کے مسئلہ پر سی پی آئی قائدین مشاورت کر رہے ہیں۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی سے ملاقات کے بعد اس سلسلہ میں قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے فہرست رائے دہندگان پر نظرثانی مہم کے دوران عوام کے ناموں کو ڈیلیٹ کرنے پر سخت تنقید کی اور کہا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو فی الفور مستعفی ہونا چاہئے ۔ گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے یکم نومبر کو نئی دہلی میں احتجاج منظم کیا جائے گا ۔ 2 ، 3 اور 4 نومبر کو جیل بھرو احتجاج کیا جائے گا۔1/k/m/b