حیدرآباد۔/11 ڈسمبر،( سیاست ڈاٹ کام)شہریت ترمیمی بل پارلیمنٹ میں منظور ہوچکی ہے اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ یہ واضح کرچکے ہیں کہ روہنگیائی مسلم پناہ گزینوں کو شہریت نہیں دی جائے گی چنانچہ حیدرآباد میں مقیم 6,000 روہنگیا پناہ گزینوں کا مستقبل غیر یقینی ہوگیا ہے۔ مینمار کے نسلی اقلیتی گروپ روہنگیا اپنے ملک میں سرکاری سطح پر منظم جبر و اسبتداد اور مظالم کے دوران اپنے گھر بار اور املاک مکمل طور پر تباہ ہوجانے کے بعد محض جان بچانے کیلئے بے سروسامانی کی حالت میں فرار ہوگئے تھے اور کئی مہینوں تک مصیبتیں برداشت کرتے ہوئے کسی طرح ہندوستان پہنچ گئے تھے اور اقوام متحدہ کی طرف سے انہیں یہاں پناہ گزینوں کا موقف دیئے جانے کے بعد تقریباً 6,000 روہنگیائی مسلمان حیدرآبادکے دوردراز کے علاقوں جیسے بالا پور، چندرائن گٹہ ، بارکس اور صلالہ میں انتہائی ناگفتہ بہہ حالات میں زندگی بسر کررہے ہیں جہاں صحت و صفائی کا کوئی انتظام ہے اور نہ ہی اُن کی رہائش اور کھانے پینے کے کوئی بہتر انتظامات ہیں۔ کئی روہنگیا عورتوں کو مقامی غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے مدد کی جارہی ہے۔ ایک 24 سالہ روہنگیانوجوان شیخ عبداللہ نے کہا کہ ’’ مجھے یقین ہے کہ شہریت بل بناتے وقت حکومت نے ضرور اس بات پر غور کیا ہوگا لیکن مرکزی حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس وقت تک ہمیں مینمار واپس نہ بھیجے جب تک وہاں کے حالات بہتر نہیں ہوجاتے۔ شیخ عبداللہ جو ایک تجربہ کار فٹ بال کھلاڑی ہے دو بین الاقوامی سرحدیںپار کرتے ہوئے مغربی بنگال میں داخل ہوا تھا اور وہاں سے حیدرآباد پہنچا ہے۔ حالیہ عرصہ کے دوران شہر میں روہنگیا پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جس کی ایک وجہ جموں و کشمیر کے موجودہ حالات بھی ہیں کیونکہ کشمیر میں پیدا شدہ سختیوں کے پیش نظر وہاں مقیم کئی پناہ گزین حیدرآباد منتقل ہوئے ہیں۔بالا پور میں پولیس روہنگیا پناہ گزینوں پر کڑی نظر رکھا کرتی ہے۔