شہریت ترمیمی قانون کو واپس لینے کے مطالبہ میں شدت

   

جے این یو تشدد کی عدالتی تحقیقات کرانے پر بھی زور، اہم مسلم تنظیموں کے قائدین کا بیان
نئی دہلی 10 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) سرکردہ مسلم تنظیموں نے شہریت ترمیمی قانون کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا اور جواہرلال نہرو یونیورسٹی میں ہوئے تشدد کی عدالتی تحقیقات پر زور دیا۔ تشدد میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے لئے معاوضہ کا بھی مطالبہ کیا۔ متنازعہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس فائرنگ میں ہلاک اور زخمی افراد کے لئے امداد کو وقت کا تقاضہ قرار دیتے ہوئے مسلم تنظیموں نے کہاکہ تشدد کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا لیکن جس قسم کا بھی تشدد کیا گیا ہے اِس کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہئے۔ مجوزہ نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس (این آر سی) اور نیشنل پاپولیشن رجسٹر (این پی آر) پر بھی اظہار تشویش کرتے ہوئے مسلم تنظیموں نے اہم اجلاس منعقد کیا جس میں زور دیا گیا کہ این پی آر کو واپس لیا جانا چاہئے یا اِس میں مزید شامل کئے گئے شقوں کو حذف کیا جانا چاہئے۔ جمعیۃ العلمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کی زیرقیادت منعقدہ مسلم تنظیموں کے اجلاس میں دارالعلوم دیوبند کے وائس چانسلر، جماعت اسلامی کے نمائندوں، مرکزی جمعیت اہلحدیث، آل انڈیا ملی کونسل، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے علاوہ ملک بھر سے تعلق رکھنے والے دیگر اہم مسلم قائدین نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ خاص کر شہریت ترمیمی قانون کے خطرات پر غور و خوض کیا گیا جبکہ اِس بل کو واپس لینے کے لئے جاری تحریک اور جدوجہد میں شدت پیدا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مسلم قائدین نے زور دیا کہ اِس خطرناک قانون کو فوری ہٹادیا جانا چاہئے۔ اجلاس میں قراردادیں بھی منظور کی گئیں جن میں سی اے اے، این پی آر اور متنازعہ این آر سی کے خلاف بھی قراردادیں شامل ہیں۔ قرارداد میں کہا گیا کہ شہریت ترمیمی قانون نہ صرف غیر دستوری ہے بلکہ یہ ملک کی ہمہ جہتی روح کی خلاف ورزی بھی ہے۔ اِس قانون میںمذہب کی بنیاد پر عوام کے خلاف امتیازات پیدا کئے گئے ہیں اور یہ دستور کے آرٹیکل 14 ، 15 اور 21 کے یکسر منافی ہے۔ دستور ہند کی اصل روح کو نقصان پہنچاتے ہوئے سی اے اے لگایا گیا ہے۔ مسلم تنظیموں نے کہاکہ این آر سی نے آسام میں اضطرابی کیفیت پیدا کردی ہے۔