حیدرآباد۔/14 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) کمیونسٹ جماعتوں کی طلباء تنظیموں آل انڈیا یوتھ فیڈریشن اور آل انڈیا اسٹوڈنٹ فیڈریشن نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف آج ریاست بھر میں احتجاجی پروگرام منظم کئے۔ حیدرآباد میں مرکزی حکومت کا علامتی پتلہ نذر آتش کیا گیا۔ آل انڈیا یوتھ فیڈریشن کے سکریٹری این سریکانت نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں اکثریت کا سہارا لے کر جس بل کو منظوری دی ہے وہ دراصل سماج کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلباء تنظیمیں مرکز کے اس فیصلہ کو منظوری نہیں دے سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی حکومت کا یہ قانون دستور کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس موقع پر آل انڈیا یوتھ فیڈریشن کے جنرل سکریٹری انیل کمار نے کہا کہ جمہوریت میں سیکولرازم کی بنیاد پر عوام کے ساتھ یکساں طور پر انصاف کیا جانا چاہیئے۔ مرکزی حکومت مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں کے ماسواء دیگر طبقات کو شہریت فراہم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دستور میں تمام مذاہب کو یکساں آزادی دی گئی ہے۔ انیل کمار نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی ہندوتوا ایجنڈہ کو آگے بڑھا رہی ہے۔ مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کو متحد کرنے کیلئے اس طرح کی قانون سازی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں قانون کی منظوری ملک کی تاریخ کا سیاہ دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کے منصوبہ کے تحت بی جے پی قدم اٹھا رہی ہے لیکن عوام اسے قبول نہیں کریں گے۔ آل انڈیا اسٹوڈنٹ فیڈریشن کے ریاستی صدر اشوک اسٹالنگ نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کی سازش کررہی ہے اسی کے حصہ کے طور پر شہریت قانون کو منظوری دی گئی ۔ انہوں نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ وہ متنازعہ قانون سے فوری دستبرداری اختیار کرے۔ سٹی سکریٹری ایس سریکانت نے کہا کہ مرکز میں بی جے پی کو دوسری مرتبہ اقتدار کے حصول کے بعد خفیہ ایجنڈہ پر عمل کیا جارہا ہے۔
اس موقع پر آل انڈیا اسٹوڈنٹ فیڈریشن کے سکریٹری نریش، اے آئی وائی ایف کے ضلع صدر آر بالا کرشنا، این سریکانت، بی نریش، ماجد، ہری کرشنا ، چیتنیہ اور دوسرے موجود تھے۔