شہریوں میں شہریت ترک کرکے ملک چھوڑنے کا رجحان بڑھنے لگا

,

   

پانچ برسوں میں 6 لاکھ ہندوستانیوں نے شہریت سے دستبرداری اختیار کی، دیگر ملکوں میں سکونت
مودی دورِحکومت کا ایک اور منفی ریکارڈ

حیدرآباد۔یکم۔ڈسمبر۔(سیاست نیوز) ہندوستانی شہری اپنی شہریت سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے دیگر ممالک میں سکونت اختیار کر رہے ہیں اور ان ممالک کی شہریت حاصل کرنے لگے ہیں۔ہندوستانی شہریوں کی جانب سے ملک چھوڑ کر دوسرے ممالک کی شہریت اختیار کرنے کے اعداد و شمار کے منظر عام پر آنے کے بعد یہ کہا جا رہاہے کہ بڑی تعداد میں ہندوستانی شہری اپنی شہریت سے دستبردار ہونے لگے ہیں۔ گذشتہ 5برسوں میں 6لاکھ سے زائد ہندوستانیوں نے اپنی ہندوستانی شہریت سے دستبرداری اختیار کی ہے۔ نریندر مودی زیرقیادت حکومت کے مملکتی وزیر داخلہ نتیانند رائے نے لوک سبھا میں دیئے گئے اپنے بیان میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ گذشتہ 5برسوں کے دوران 6لاکھ سے زیادہ ہندوستانی شہریوں نے اپنی شہریت سے دستبرداری اختیار کی ہے اور وہ دوسرے ممالک کی شہریت حاصل کرچکے ہیں۔لوک سبھا میں دیئے گئے تحریری جواب میں دی گئی تفصیلات کے مطابق سال 2017 کے دوران 1لاکھ 33ہزار49 ہندوستانی شہریوں نے اپنی شہریت سے دستبرداری اختیار کی ہے جبکہ سال 2018 کے دوران 1لاکھ 34ہزار561 ہندوستانی شہریوں نے ہندوستانی شہریت چھوڑ دی ہے۔ 2019کے دوران 1لاکھ 44ہزار17 ہندوستانی شہریوں نے ملک چھوڑنے اور شہریت سے دستبرداری اختیار کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ سال 2020کے دوران 85ہزار 248 ہندوستانی شہریوں نے شہریت سے دستبرداری اختیار کی ہے۔ جاریہ سال یعنی 2021کے دوران 30 ستمبر تک 1لاکھ 11ہزار 287 ہندوستانی شہریوں نے اپنی شہریت سے دستبرداری اختیار کی ہے۔ شہریت کے اصولوں اور شہریت کے قوانین کے ماہرین کا کہناہے کہ سال 2017 سے ہندوستانی شہریت سے دستبرداری اختیار کرنے کے رجحان میں بتدریج اضافہ دیکھا جا رہاہے اور پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے اعداد و شمار کا جائزہ لینے پر بھی اس بات کی توثیق ہوتی ہیکہ 2017تا2019 کے دوران ہندوستانی شہریت سے دستبرداری اختیار کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور 2020 کے دوران ریکارڈ کی جانے والی نمایاں کمی کو دنیا بھر میں لاک ڈاؤن اور سرکاری دفاتر کو بند کئے جانے سے جوڑ کر دیکھنا چاہئے کیونکہ 2020 کے دوران کئی سرکاری کام کاج نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں ٹھپ رہے اور شہریت کے حصول اور شہریت سے دستبرداری کے تمام امور سرکاری ہوتے ہیں۔ 2021 کی پہلی سہ ماہی مدت کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو ہندوستانی شہریت ترک کرنے والوں کی تعداد میں دوبارہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اورابتدائی 9 ماہ کے دوران 1لاکھ 11ہزار287 ہندوستانی شہریوں کی جانب سے ہندوستانی شہریت سے دستبرداری اختیار کی گئی ہے اور یہ دنیا کے دیگر ممالک میں آباد ہونے لگے ہیں۔ 2015 کے دوران 1لاکھ 41ہزار 656 ہندوستانی شہریوں نے اپنی شہریت سے دستبرداری اختیار کی تھی جبکہ 2016 کے دوران 1لاکھ 44ہزار942 ہندوستانی شہریوں کی جانب سے شہریت سے دستبرداری کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس طرح مودی حکومت میں منفی ریکارڈ قائم ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ ہندوستانی شہریوں کی جانب سے شہریت سے دستبرداری اختیار کرنے کی وجوہات کا مجموعی طور پر جائزہ لئے جانے کی ضرورت ہے اور اس بات سے بھی آگہی حاصل کرنا چاہئے کہ جو لوگ ہندوستانی شہریت سے دستبرداری اختیار کر رہے ہیں اس کی وجوہات کیا ہیں اور کیوں وہ دنیا کے دیگر ممالک کی شہریت اختیار کر رہے ہیں۔یہ جاننا بھی اہم ہیکہ ہندوستانی شہریت ترک کرنے والے افراد امیر طبقہ کے ہیں یا دیگر؟ اس کا تجزیہ اور تفصیلات بھی منظرعام پر آئیں گے۔ عین ممکن ہے امیر لوگ ہی ہندوستان کو ترک کررہے ہیں کیونکہ کمزور معاشی حالت والا یا متوسط طبقہ بالعموم ترک وطن اور ترک شہریت کا متحمل نہیں ہوتا ہے۔