شیئر بازار میں طوفانی تیزی

   

ممبئی: چین کی معیشت کے تعلق سے بڑھتی ہوئی امید اور ایشیائی بازاروں میں مضبوطی اور مقامی سطح پر ہمہ جہت خریداری کی وجہ سے آج شیئر بازار میں طوفانی تیزی رہی۔ تادم تحریر، بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 770.38 پوائنٹس یا 1.04 فیصد کے اضافے سے 74,940.33 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 228.41 فیصد یعنی 1.01 فیصد کی پرواز کرکے 22,737.20 پر کاروبار کر رہا تھا۔ کاروبار کے آغاز میں، سینسیکس 439 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 74,608.66 پوائنٹس پر کھلا، لیکن فروخت کی وجہ سے ، یہ کچھ دیر بعد ہی 74,480.15 پوائنٹس کی نچلی سطح پر آگیا۔ وہیں اس کے بعد شروع ہوئی تابڑ توڑ خریداری کی بدولت یہ 75,094.30 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ اسی طرح نفٹی بھی 154 پوائنٹس چھلانگ لگا کر 22,662.25 پوائنٹس پر کھلا اور خبر لکھنے تک یہ 22,599.20 پوائنٹس کی نچلی جبکہ 22,781.40 پوائنٹس کی بلند سطح پر رہا۔

شیئر بازار میں متاثرہ سرمایہ کاروں کو حکومت راحت فراہم کرے
نئی دہلی: شیئر بازار میں غیر متوقع گراوٹ کا معاملہ منگل کو راجیہ سبھا میں اٹھایا گیا اور حکومت سے بری طرح متاثر ہوئے چھوٹے سرمایہ کاروں کو راحت فراہم کرنے کے لئے مداخلت کرنے اور اقدامات کرنے کی مانگ کی گئی۔ کانگریس کے پرمود تیواری نے وقفہ صفر کے دوران ایوان میں یہ معاملہ اٹھایا اور کہا کہ شیئر بازار میں غیر متوقع گراوٹ سے 95 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کار کو اب ہندوستانی بازار پسند نہیں آرہا ہے اور انہوں نے بڑی مقدار میں اپنا پیسہ نکال لیا ہے ۔ اس کی وجہ سے ہندوستانی بازار میں 12 فیصد کمی آئی ہے اور حکومت خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے سرمایہ کار اس سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ملک میں معاشی کساد بازاری کے خدشات سے لوگ خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متعدد چھوٹے سرمایہ کاروں نے ایس آئی پی بند کردی ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو ان لوگوں کو راحت فراہم کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔
کانگریس کے عمران پرتاپ گڑھی نے ممبئی کے حج ہاؤس میں یو پی ایس سی امتحانات کے لیے کوچنگ سینٹر کو دوبارہ سے شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ کوچنگ سینٹر اقلیتوں، ایس سی اور ایس ٹی طلباء کے لیے یو پی اے کے دور میں شروع کیا گیا تھا۔ اس سینٹر کو کورونا کے دور میں بند کردیا گیا تھا۔ یہ سنٹر حاجیوں کی رجسٹریشن سے حاصل ہونے والی رقم سے چلایا جاتا ہے ۔
راشٹریہ جنتا دل کے منوج جھا نے آشا ورکرس کے اعزازیہ میں اضافہ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارکن ملک بھر میں صحت کی اسکیموں کو چلانے میں حکومتوں کی مدد کر رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہر ریاست میں ان کا اعزازیہ کم از کم 21 ہزار روپے ماہانہ ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی نے بھی اس حوالے سے سفارش کی تھی۔
ترنمول کانگریس کے ساکیت گوکھلے نے مطالبہ کیا کہ سابق چیف الیکشن کمشنر ٹی این سیشن کو ملک کا سب سے بڑا اعزاز، بھارت رتن دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر شیشن نے ملک میں الیکشن کمیشن کو ایک نئی جہت دی ہے اور اس کے لئے ایک الگ امیج بنائی ہے ۔