شاہد ریاض شاہدؔ
نیا سال مبارک
لو جی غربت اور مہنگائی کا وبال آ گیا
گندی سیاست کا ایک جھنجال آ گیا
بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ لیے دوستو!
ہر سال کی طرح پھر نیا سال آ گیا
…………………………
استاد رامپوری
یہ سال دوسرا ہے
(جنوری سے ڈسمبر تک کا حساب کتاب )
جب تم سے اتفاقاً میری نظر ملی تھی
کچھ یاد آرہا ہے شاید وہ جنوری تھی
مجھ سے ملیں دوبارہ یوں ماہ فروری میں
جیسے کہ ہم سفر ہو تم راہِ زندگی میں
کتنا حسیں زمانہ آیا تھا مارچ لے کر
راہِ وفا پہ تھیں تم وعدوں کی ٹارچ لے کر
باندھا جو عہدِ اُلفت اپریل چل رہا تھا
دنیا بدل رہی تھی موسم بدل رہا تھا
لیکن مئی میں جبکہ دشمن ہوا زمانہ
ہر شخص کی زباں پر بس تھا یہی فسانہ
دنیا کے ڈر سے تم نے بدلی تھیں جب نگاہیں
تھا جون کا مہینہ لب پر تھیں گرم آہیں
جولائی میں جو تم نے کی بات چیت کچھ کم
تھے آسماں پہ بادل اور میری آنکھ پُرنم
ماہِ اگست میں جب برسات ہورہی تھی
بس آنسوؤں کی بارش دن رات ہورہی تھی
توڑا جو عہدِ اُلفت وہ ماہ تھا ستمبر
بھیجا تھا تم نے مجھ کو ترکِ طلب کا لیٹر
تم غیر ہوچکی تھیں اکتوبر آگیا تھا
دنیا بدل چکی تھی موسم بدل چکا تھا
جب آگیا نومبر ایسی بھی رات آئی
مجھ سے تمھیں چھڑانے سج کر بارات آئی
بے کیف تھا ڈسمبر جذبات مرچکے تھے
ان سرد مہریوں سے ارماں ٹھٹھرچکے تھے
پھر جنوری ہے لیکن اب حال دوسرا ہے
وہ سال دوسرا تھا یہ سال دوسرا ہے
…………………………
فرید سحر ؔ
نئے برس …!!
ہم بھی غزل کو گائیں گے یارو نئے برس
رنگ اپنا ہم جمائیں گے یارو نئے برس
ڈفلی نئی بجائیں گے یارو نئے برس
کرتب بھی ہم دکھائیں گے یارو نئے برس
ایکٹنگ ہماری دیکھنے اسٹیج پر یہاں
مُردے بھی اُٹھ کے آئیں گے یارو نئے برس
گھپلے،گُھٹالے دیش میں کوئی کرے اگر
اس کی چتا جلائیں گے یارو نئے برس
محفل کو لُوٹنے کے لئے ہم کلام بھی
اُستاد کا سُنائیں گے یارو نئے برس
ہندی میں اک لکھیں گے گجل اور کسم سے پھر
اُردو میں اس کو گائیں گے یارو نئے برس
مانگے جو گھوڑے جوڑے میں لاکھوں روپئے اگر
مُرغا اُسے بنائیں گے یارو نئے برس
برسوں سے پڑھ رہے ہیں فقط جس غزل کو ہم
پُورا برس چلائیں گے یارو نئے برس
کل تک تو صرف سُنتے رہے اُن کی ہم سحرؔ
اب اُن کا بھیجہ کھائیں گے یارو نئے برس
…………………………
…خبر پہ شوشہ …
’’دو کروڑ کے چائے، سموسے‘‘
٭ روز نامہ سیاست میں شائع روش کمار کے کالم کے مطابق ریاست گجرات میں ’’جن جاتیہ گورو ابھیان ‘‘پروگرام منعقد ہوا جس میں وزیراعظم نریندر مودی بھی شریک رہے۔ روش کمار نے آگے لکھا کہ ریاستی حکومت کے مطابق اس پروگرام میں شریک 500 افراد کی چائے اور سموسے سے تواضع کی گئی جس کا خرچ دو کروڑ روپئے بتایا گیا۔ روش کمار نے حساب جوڑ کر یہ بھی بتایا کہ دو کروڑ روپئے میں 20 لاکھ سموسے آتے ہیں اور 500 افراد کھائیں تو ہر شخص کے حصہ میں 4000 سموسے آئیں گے۔ اور اس کو 500 افراد پر تقسیم کیاجائے تو ہر شخص ایک سال سے زائد عرصہ تک روز 10 سموسے کھا سکتا ہے۔ چائے سموسے کے اس ناقابل یقین خرچ پر ہمیں کسی مزاح نگار کا جملہ یاد آیا۔
لکھا تھا ’’کھانے کے کوئی منّظم آداب نہیں ہیں۔ بس سلیقہ ملحوظ رکھنا ہوتا ہے۔ اور یہ سلیقہ صرف ہمارے سیاستدانوں اور سربراہان کو آتاہے۔ وہ بڑی خاموشی سے کھاتے ہیں۔ کیا کھایا، کتنا کھایا یہ بعد میں اخبارات کے ذریعہ معلوم ہوتا ہے‘‘۔
کے این واصف۔ ریاض
…………………………
