نئی دہلی: سپریم کورٹ نے چہارشنبہ کو کہا کہ وہ کیرالا کے صحافی صدیق کپن کی درخواست ضمانت پر 26 اگست کو سماعت کرے گی۔کپن کو 5 اکتوبر 2020 کو اترپردیش پولیس نے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون کے تحت گرفتار کیا تھا۔ کپن اتر پردیش کے ہاتھرس میں ایک نابالغ دلت لڑکی کی عصمت دری اور قتل سے پیدا ہونے والی صورت حال کی رپورٹنگ کرنے جا رہے تھے ، جب انہیں تین دیگر افراد کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا۔چیف جسٹس این وی رمنا کی بنچ کے خصوصی تذکرہ کے دوران ملزم صحافی کے وکیل ہیرس بیرن نے فوری سماعت کا مطالبہ کیا۔ بنچ نے ان کی درخواست کو جلد سماعت کی اجازت دیتے ہوئے جمعہ کو معاملہ درج کرنے کی ہدایت دی۔الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے 2 اگست کو کپن کی ضمانت عرضی کو مسترد کر دیا تھا۔ عرضی خارج ہونے پر درخواست گزار کا دعویٰ ہیکہ ضمانت کی عدم دستیابی کی وجہ سے اسے ایک اہم حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ درخواست گزار کو تقریباً دو سال سے جھوٹے الزامات کی بنیاد پر سلاخوں کے پیچھے رکھا گیا ہے ۔ صرف اس وجہ سے کہ اس نے بدنام زمانہ ہاتھرس عصمت دری اور قتل کیس کی رپورٹنگ کی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری ادا کرنے کی کوشش کی۔
درخواست میں عدالت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ درخواست گزار جس گاڑی میں سفر کر رہا تھا اس کے ڈرائیور کی ضمانت منظور کر لی گئی ہے ۔درخواست گزار کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک 19 سالہ دلت لڑکی کی اجتماعی عصمت دری اور قتل کی رپورٹ کرنے ہانتھرس جا رہے تھے ، جب انہیں گرفتار کیا گیا۔کپن نے پولیس کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ امن کی خلاف ورزی کا امکان ہے ۔ اس وجہ سے انہیں گرفتار کیا گیا۔اتر پردیش حکومت نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ ملزم پاپولر فرنٹ آف انڈیا سے وابستہ پایا گیا تھا، جو کالعدم اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (سیمی) کی جگہ تشکیل دی گئی تھی۔پولیس نے یہ بھی الزام لگایا کہ کپن تیجس کے لیے کام کرتا تھا، ایک اخبار جو دسمبر 2018 میں بند ہو گیا تھا۔ یہ پی ایف آئی کا ماؤتھ پیس تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ اخبار کے خیالات ایسے تھے کہ اس نے دہشت گرد اسامہ بن لادن کو شہید قرار دیا تھا۔