صدارتی انتخاب اور اپوزیشن

   

Ferty9 Clinic

سناٹے، طوفان بھی لے کر آتے ہیں
خاموشی، منظوری بھی ہوسکتی ہے
ملک کے آئندہ صدر جمہوریہ کے انتخاب کا شیڈول جاری کردیا گیا ہے ۔ شیڈول کے مطابق 18 جولائی کو نئے صدر کا انتخاب عمل میں آئیگا اور ضرورت پڑنے پر 21 جولائی کو رائے شماری ہوگی اور نئے صدر جمہوریہ ہند 25 جولائی کو اپنے عہدہ کا حلف لیں گے ۔ آئندہ صدر جمہوریہ کے انتخاب کے مسئلہ پر مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ یہ بات تقریبا طئے سمجھی جا رہی ہے کہ برسر اقتدار اتحاد کی جانب سے موجودہ صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کو دوسری معیاد کیلئے نامزد نہیں کیا جائیگا اور کسی دوسرے امیدوار کے نام کا جلد اعلان کیا جاسکتا ہے ۔ بی جے پی زیر قیادت برسر اقتدار اتحاد کی جانب سے کوشش کی جا رہی ہے کہ اتفاق رائے سے نئے صدر جمہوریہ کا انتخاب عمل میں آئے اور رائے دہی کی نوبت نہ آنے پائے ۔ تاہم اس بات کا امکان بہت کم ہے کیونکہ اپوزیشن کی جانب سے بھی امیدوار میدان میں اتارنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی اپنے متحدہ امیدوار کو میدان میں اتارنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا تاہم اس کیلئے بھی اتفاق رائے ہونا آسان نہیں نظر آ رہا ۔ جس طرح بی جے پی کیلئے کسی متحدہ امیدوار کو میدان میں اتارنا مشکل ہے اسی طرح اپوزیشن کیلئے بھی ایسا کرنا آسان نظر نہیں آتا ۔ بی جے پی ہو یا پھر اپوزیشن جماعتیں ہوں دونوں کیلئے صورتحال یکساں نظر آتی ہے لیکن اگر اپوزیشن کی صفوں میں اتحاد نہیں ہوتا ہے تو بی جے پی کیلئے اس انتخاب میں کامیابی حاصل کرنا آسان ہوجائیگا ۔ بی جے پی اپوزیشن کی صفوں میںدراڑ کا آسانی سے فائدہ اٹھا سکتی ہے ۔ اس کے علاوہ کچھ جماعتیں جو حالانکہ این ڈی اے اتحاد کا حصہ نہیں ہیں وہ بھی بی جے پی امیدوار کی تائید کرسکتی ہیں کیونکہ یہ ان کی سیاسی مجبوری ہوسکتی ہے ۔ اوڈیشہ میں برسر اقتدار بیجو جنتادل اور آندھرا پردیش میں وائی ایس آر کانگریس نے ابھی تک اس مسئلہ پر خاموشی اختیار کی ہے اور سمجھا جا رہا ہے کہ دونوں ہی جماعتیںبی جے پی کے امیدوار کی تائید کریں گی ۔ ایسا کرنا ان دونوں جماعتوں کی اپنی سیاسی مجبوری ہوسکتی ہے لیکن اس سے اپوزیشن کے امیدوار کے امکانات متاثر ہوجائیں گے ۔
اپوزیشن جماعتیں کانگریس ‘ ترنمول کانگریس راشٹریہ جنتادل ‘ سماجوادی پارٹی ‘ تلنگانہ راشٹرا سمیتی ‘ این سی پی ‘ جھارکھنڈ مکتی مورچہ ‘ شیوسینا تمام بھی اگر متحدہ امیدوار نامزد کرنے سے متفق ہوجاتی ہیں تب بھی وائی ایس آر کانگریس اور بیجو جنتادل کی تائید ضروری ہوگی ۔ اس کے علاوہ بہار کے برسر اقتدار اتحاد کی جماعت جنتادل یو کی تائید بھی حاصل کرنی ہوگی ۔ موجودہ صورتحال میں ان تمام جماعتوں کو ایک صف میں لا کھڑا کرنا آسان نظر نہیں آتا ۔ حالانکہ اگر یہ جماعتیں متحد ہو کر مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہوجاتی ہیںاور کسی ایک امیدوار پر اتفاق رائے پیدا ہوجاتا ہے تو اس سے بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے کیلئے مسائل پیدا کئے جاسکتے ہیں۔ اس کا اثر آئندہ پارلیمانی انتخابات کی تیاریوں پر بھی مرتب ہوسکتا ہے ۔ اگر مقابلہ انتہائی سخت ہوتا ہے تب بھی اپوزیشن کے حوصلے بلند ہوسکتے ہیں۔ مستقبل میں حکومت سے ٹکراؤ کا راستہ اختیار کرنے سے انہیںکوئی گریز نہیںہوگا ۔ اصل سوال یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے کی کوششوں کا آغاز کون کرے گا ؟ ۔ کئی علاقائی جماعتیں کانگریس کی قیادت میں متحد ہونے کو تیار نہیںہیں اور کچھ علاقائی جماعتوں کا یہ احساس ہے کہ بغیر کانگریس کوئی متبادل مستحکم نہیںہوسکتا ۔ اس صورتحال سے بی جے پی کو فائدہ ہوسکتا ہے کیونکہ اپوزیشن اگر ایک مسئلہ پر متحد نہیں پاتی ہے تو دوسرے مسائل پر بھی ان میں اختلافات کو ہوا دینے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی اور بی جے پی ایسا کرنے میں مہارت رکھتی ہے ۔
ملک کے موجودہ حالات کا تقاضہ یہی ہے کہ اپوزیشن جماعتیں چاہے وہ علاقائی ہوں یا پھر قومی ہوں ایک دوسرے سے اتحاد کرنے میں کسی پس و پیش کا شکار نہ ہوں اور نہ کسی مصلحت سے کام لیں ۔ انہیں بی جے پی کے خلاف ایک مستحکم محاذ کی تیاری کیلئے اپنے اختلافات کو کم از کم کچھ وقت کیلئے بالائے طاق رکھنے کی ضرورت ہے ۔ ایک مرتبہ ایسا اتحاد تیار ہوتا ہے اور اس کے نتائج حوصلہ افزاء نظر آتے ہیں تو پھر آئندہ عام انتخابات کیلئے ایک سازگار ماحول تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے ۔ صدارتی انتخاب میں بی جے پی کیلئے مشکلات پیدا کی جائیں تو پھر پارلیمانی انتخابات میں بھی ایسا کرنا زیادہ مشکل نہیں رہ جائے گا ۔