مشکوۃ شریف میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور پاک علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: ’’صدقہ خدا کے غضب کو بجھا دیتا ہے اور بری موت کو دفع کرتا ہے‘‘۔ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور پاک علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جو کسی مسلمان ننگے بدن کو کپڑا پہنائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت کا سبز (ہرا) لباس پہنائے گا اور جو کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے میوے کھلائے گا اور جو کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلائے گا تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس کو جنت کا خالص شربت پلائے گا‘‘۔ (مشکوۃ شریف)
صدقہ مال کو کم نہیں کرتا اور اللہ تبارک و تعالی اس بخشش کے بدلے انسان کی عزت و وقار کو بڑھاتا ہے اور جو شخص اللہ تعالی کی رضا جوئی کے لئے تواضع کرتا ہے، اللہ تبارک و تعالی اسے بلند مرتبہ عطا فرماتا ہے۔ فطر کے معنی روزہ چھوڑنے کے آتے ہیں، شریعت کی اصطلاح میں صدقہ فطر اُس صدقہ کو کہا جاتا ہے، جو رمضان المبارک کے روزوں کے اختتام پر واجب ہوتا ہے۔ صدقۂ فطر کی بڑی فضیلت و اہمیت ہے۔ جس سال مسلمانوں پر رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے، اسی سال حضور ﷺنے صدقۂ فطر ادا کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ حضرت سیدنا انس بن مالک ؓسے روایت ہے کہ حضور ﷺنے فرمایا: ’’جب تک صدقہ فطر ادا نہیں کیا جاتا، بندے کا روزہ زمین و آسمان کے درمیان معلق (یعنی لٹکا ہوا) رہتا ہے‘‘۔ حضور پاک علیہ الصلوۃ والسلام نے تاکید کے ساتھ صدقۂ فطر ادا کرنے کا حکم فرمایا۔ چنانچہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور پاک علیہ الصلوۃ والسلام نے مسلمانوں میں سے ہر مرد و عورت اور چھوٹے بڑے پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو صدقۂ فطر واجب قرار دیا۔ صدقۂ فطر لوگوں کے نماز عید کو جانے سے پہلے دے دیا جائے۔ (بخاری و مسلم)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپﷺ نے مدینہ کے گلی کوچوں میں اپنے منادی کے ذریعہ اعلان کرایا کہ صدقۂ فطر ہرمسلمان پر واجب ہے۔ مرد ہو یا عورت، آزاد ہو یا غلام، بالغ ہو یا نابالغ۔ (ترمذی شریف) مسلمانوں پر صرف اپنا ہی فطرہ ادا کرنا واجب نہیں، بلکہ زیر کفالت بچوں اور ہر اس شخص کا فطرہ بھی واجب ہے، جس کا نان و نفقہ اس کے ذمہ ہو۔ کسی شرعی مجبوری کے تحت یا کسی وجہ سے اگر کوئی شخص روزہ نہ رکھ سکا تو اس پر بھی صاحب نصاب ہونے کی صورت میں صدقۂ فطر واجب ہے۔ (ردمختار)