شہر میں لڑکیوں وخواتین پر زیادتیاں ، بھروسہ سنٹر سے قانونی، طبی خدمات اور کونسلنگ کا انتظام
حیدرآباد۔ 25 فروری (سیاست نیوز) سماج میں لڑکیوں اور خواتین کی عزت کی حفاظت بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ہم یہ سوچتے ہیں کہ نوجوان لڑکیاں اور خواتین اپنوں کے پاس زیادہ محفوظ ہوتی ہیں لیکن یہ خیال غلط ثابت ہورہا ہے۔ صنف ِ نازک کو غیروں سے زیادہ اپنوں سے خطرہ ہے۔ اچھے اور برے کی تمیز نہ رکھنے والی کمسن لڑکیوں پر زیادتی کے واقعات میں بے تحاشہ اضافہ ہورہا ہے۔ کچھ لوگ ان کی بے بسی کا فائدہ اُٹھا رہے ہیں تو بعض محبت اور شادی کا جھانسہ دے کر جسم فروشی کے اڈوں تک پہنچا رہے ہیں۔ جس پر بھروسہ کیا جارہا ہے، اکثر وہی دھوکہ دے رہے ہیں۔ ’’بھروسہ سنٹرس‘‘ کے ذریعہ اس طرح کی متاثرہ لڑکیوں کی کونسلنگ کرتے ہوئے انہیں ذہنی دباؤ سے نجات دلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایک ایسا واقعہ منظر عام پر آیا ہے جہاں 15 سالہ لڑکی محبت پر گرفتار ہوکر گھر سے فرار ہوگئی جس کے خلاف مقدمہ درج ہونے پر پولیس نے لڑکی کو محفوظ طریقہ سے واپس لایا۔ نوجوان پر مقدمہ درج کرنے کا علم ہونے کے بعد لڑکی نے اپنا بیان تبدیل کردیا اور الزام لگایا کہ والدین ہی نے اس پر جسم فروشی کیلئے دباؤ ڈال رہے تھے۔ پولیس نے یہ بات بتائی۔ یہ صرف ہمارے سماج کی ایک مثال ہے۔ ایسے کئی واقعات ہیں۔ پولیس نے مزید بتایا کہ ہر ماہ لڑکیوں کے لاپتہ ہونے، اغوا، جنسی ہراسانی کے 60 سے زائد شکایتیں وصول ہورہی ہیں۔ ان میں 70% لڑکیاں غیروں کے جھانسے میں آکر گھر سے بھاگ رہی ہیں۔ ان واقعات کیلئے گھریلو ماحول بالخصوص گھریلو تشدد، والدین کے تعلقات، والدین کے درمیان علیحدگی یا نااتفاقیاں، معاشی مسائل، نشے کا استعمال، بچوں پر والدین کی نظر نہ ہونا، سوشل میڈیا کا بگاڑ، سماجی اور خاندانی اقدار کی گراوٹ کی وجہ سے بچے بالخصوص لڑکیاں دھوکے میں آرہی ہیں۔ ایسے متاثرین کی ’’بھروسہ سنٹر‘‘ کی جانب سے بھرپور مدد کی جارہی ہے ، ان کی ضروریات کی نشاندہی کرتے ہوئے مناسب خدمات فراہم کی جارہی ہے۔ حقیقی صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے خوف کو دُور کرنے کیلئے ایک مثبت ماحول پیدا کرنے کیلئے مشورہ دیا جارہا ہے۔ ڈاکٹر لاونیا نائیک جادھو ڈی سی پی ویمن سیفٹی وِنگ حیدرآباد نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ گھر کا ماحول بچوں کیلئے بہتر بنائیں، خاندانی روایات اور سماجی حالات کے بارے میں بچوں میں شعور بیدار کریں۔ بچوں کی غلطی پر انہیں ڈانٹنے اور خود سے دُور کرنے کے بجائے انہیں دوست بن کر ان کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کریں اور انہیں صحیح راستہ دکھائیں۔ بچے سوشیل میڈیا پر کیا دیکھ رہے ہیں اور اس سے رابطہ کررہے ہیں، اگر لڑکیاں جنسی ہراسانی کا شکار ہورہی ہیں تو اس کو پوشیدہ رکھنے کے بجائے پولیس سے اس کی شکایت کریں۔ ضرورت پڑنے پر قانونی اور طبی مدد بھی فراہم کی جائے گی۔ اگرکسی کو مدد کی ضرورت ہو تو ان فون نمبرس پر +918712656858, +914027852246ربط کریں۔