ضامن روزگار کاموں کو باقاعدہ انجام دینے کی ہدایت

   


نظام آباد میں سیل کانفرنس کے ذریعہ متعلقہ عہدیداروں کے ساتھ کلکٹر کا جائزہ اجلاس

نظام آباد :10؍ ڈسمبر( محمد جاوید علی)طمانیت روزگار اسکیم کے تحت ضلع میں انجام دئیے جانے والے کاموں کو باقاعدہ طور پر انجام دینے کی ضلع کلکٹر مسٹر نارائن ریڈی نے آج سیل کانفرنس کے ذریعہ ایم پی ڈی اوز ، اے پی اوز اور متعلقہ عہدیداروں کے ساتھ ایک جائزہ اجلاس منعقد کیا اس موقع پر ضلع کلکٹر مسٹر نارائن ریڈی عہدیداروں کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ گرام پنچایت کے سکریٹریز گرام پنچایت کے تحت واقع نصف کاموں کو انجام دینے اور باقی نصف کاموں کو طمانیت روزگار کے تحت انجام دینے کی خواہش کی ۔ ضلع میں جاری کاموں کا مرکزی حکومت کے جوائنٹ سکریٹری کی ٹیم ضلع کا دورہ کررہی ہے لہذا ان کاموں کو باقاعدہ طور پر انجام دیتے ہوئے اس کے اندراج کرنے اور اس خصوص میں احکامات جاری کرنے کے باوجود بھی ابھی تک چند دیہاتوں میں اس خصوص میں اقدامات نہیں کئے گئے فوری ان کاموں کو انجام دینے کی ہدایت دی ۔ گرام پنچایت سکریٹری دیہات کے نوڈل آفیسر ہوتے ہیں لہذا طمانیت روزگار اسکیمات کا جائزہ لینا سکریٹری کی ہے اس خصوص میں ایم پی ڈی اوز منڈل سطح پر پروگرام آفیسر کی حیثیت سے جائزہ لیں اور فوری ان کاموں کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے اس کے تحفظ کیلئے اقدامات کریں اور ہر منڈل میں 10 فیصد مزدوروں کی شرکت کو یقینی بنانے دیہاتوں میں صفائی کا بھی جائزہ لیتے ہوئے کاموں کو انجام دیں ۔ ہر پیر سے دیہاتوں کا جائزہ لینے کیلئے دورہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ۔ ضلع کلکٹر مسٹر نارائن ریڈی نے بعدازاں سیلف ہلپ گروپس کا بھی جائزہ لیتے ہوئے گروپوں میں شامل نہ ہونے والے گروپوں میں شامل کرنے کیلئے اقدامات کرنے کی ہدایت دی ۔فہرست رائے دہند گان کے مطابق ضلع میں ایک لاکھ سے زائد خواتین کو گروپوں میں شامل کرنے کے پیش نظر میں ان میں شعور بیدار کرنے کے سلسلہ میں 12 ہزار گروپوں میں شامل کرنے کیلئے سہولت ہے لہذا گھر گھر پہنچ کر 10 افراد پر مشتمل ایک گروپ تیار کرنے کی اور بینکوں سے انہیں قرضہ جات فراہم کرنے کیلئے اقدامات کریں اور ان کے خواہش کے مطابق ان کی دلچسپی رکھنے والے شعبہ میں تربیت دلانے کیلئے اقدامات کرنے اور اس بارے میں منصوبہ بندی کرتے ہوئے 15 ؍ ڈسمبر سے آئند ہ سال جنوری تک اسے پورا کرنے کی ہدایت دی ۔ اس سیل کانفرنس میں انچارج ڈی آر ڈی او سرینواس کے علاوہ دیگر بھی موجود تھے ۔