پھر دکھا دے زندگی کے وہ صبح شام تو
لوٹ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو
بنگلہ دیش میںسابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے فرزند طارق رحمن 17 سال کی جلا وطنی کی زندگی گذارنے کے بعدوطن واپس ہوگئے ہیں۔انہوںنے بنگلہ دیش آمد کے فوری بعدان کے استقبال کیلئے جمع ہوئے لاکھوںافراد سے خطاب بھی کیا ۔ طارق رحمن نے بنگلہ دیش کے عوام کو ایک امید کی کرن دکھانے کی کوشش کی ہے اور کہا کہ جس طرح مارٹن لوتھر کنگ نے کہا تھا کہ ان کا ایک خواب ہے اسی طرح طارق رحمن نے بنگلہ دیشی عوام سے کہا کہ ان کا ایک منصوبہ ہے ۔ طارق رحمن کا منصوبہ کیا ہے یہ تو ابھی کہا نہیں جاسکتا تاہم یہ بات ضرور ہے کہ بنگلہ دیش کے لاکھوں افراد کو طارق رحمن سے امیدیںوابستہ ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ طارق رحمن بنگلہ دیش کی قیادت کرتے ہوئے حالات کو پرامن بنائیں۔ بنگلہ دیش کو نراج اوربدامنی کی کیفیت سے باہر نکالیں اور بنگلہ دیش کی معاشی ترقی کے سفر کو جاری رکھنے کیلئے اقدامات کریں۔ جو کچھ بھی حالات فی الحال بنگلہ دیش میںپائے جاتے ہیں ان کو بہتر بنانے کیلئے جامع اور مبسوط حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے ۔ بنگلہ دیش کے جو داخلی حالات ہوگئے ہیں وہ انتہائی تشویش کی بات ہیں ۔ جس طرح سے طلباء برادری ملک کے حالات سے غیر مطمئن ہے اور وہ اپنے مطالبات کو منوانے کیلئے سڑکوںپر اتر آئی ہے اورتشدد کا سہارا لے رہی ہے وہ بنگلہ دیش کے لئے انتہائی نامناسب ہے ۔ بنگلہ دیش نے گذشتہ کئی دہائیوں کی غربت و افلاس کا سامنا کرنے کے بعد معاشی ترقی کا سفر شروع کیا تھا اور تشدد و نراج کی کیفیت کے نتیجہ میں متاثر ہو نے لگا ہے ۔ ملک کے عوام جس مشکل صورتحال سے گذرتے ہوئے آگے بڑھے ہیںدوبارہ مشکلات میںجانے سے گھبراتے ہیںاور وہ چاہتے ہیں کہ ترقی کے سفر کو کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رکھا جاے ۔ اگر ملک کے حالات بہتر نہیںہوتے ہیں تو پھر ان کی وجہ سے معیشت سب سے پہلے متاثر ہوسکتی ہے اور اس کے اثرات ملک کے تمام داخلی حالات پر مرتب ہوسکتے ہیں۔ داخلی سلامتی کی ابتر صورتحال کے نتیجہ میںایسے عناصر کوبھی تقویت ملتی دکھائی دے رہی ہے جو ملک میںنراج اور بدامنی کو ہوا دینے کے ارادے رکھتے ہیں۔
طلباء برادری کے احتجاج کے نتیجہ میںشیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹ گیا تھا ۔ شیخ حسینہ ملک کی عنان اقتدار چھوڑ کر ہندوستان فرار ہونے پر مجبور ہوگئی تھیں۔ شیخ حسینہ کی پارٹی عوامی لیگ نے بنگلہ دیش میں15 برسوں تک حکومت کی تھی اور انہوں نے جس آہنی پنجہ سے سیاسی مخالفین کو کچلا تھا اس نے بنگلہ دیش کے سیاسی نظام کو ہی متاثر کر کے رکھ دیا تھا اور اپوزیشن کا عملا صفایا کردیا گیا تھا ۔ آج بنگلہ دیش میںجو عبوری انتظامیہ ہے وہ ملک کے حالات کو بہتر بنانے میںپوری طرح سے کامیاب نہیںہوا ہے اور اس کے نتیجہ میں ان عناصر کے حوصلے بلند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں جو نراج کی طاقت سمجھے جاتے ہیں۔ بنگلہ دیش کے حالات اس کے نتیجہ میں بری طرح سے متاثر ہونے لگے ہیں۔ اگر نراج اور بدامنی کی کیفیت پر جلد قابو نہیں پایا گیا اور حالات متاثر ہونے کا سلسلہ جاری رہا تو یہ اندیشے بے بنیاد نہیں کہے جاسکتے کہ ان عناصر کے حوصلے مزید بلند ہوجائیں گے اور وہ ملک کے اقتدار پر اثر انداز ہونے کی کوشش کریں گے ۔ اس طرح کے عناصر ملک کی ترقی کو صفر کرنے میںکوئی کسر باقی نہیں رکھیں گے ۔ طارق رحمن کی آمد سے بنگلہ دیش کے افراد کو کچھ امیدیں وابستہ ہوئی ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ وہ قائدانہ ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے ملک کے حالات کو بہتر انداز میں سنبھالتے ہوئے ملک کے عوام کو مشکلات کے اندھیرو سے دور رکھنے کی ہی کوشش کریں۔ انہیںدوبارہ مشکلات کے دور میں زندگی گذارنے کیلئے مجبور ہونے کی نوبت نہ آنے پائے ۔
طارق رحمن نے ملک کے عوام کو یہ تیقن تو دیا ہے کہ ان کے پاس ملک کے حالات کو بہتر بنانے کیلئے ایک منصوبہ ہے ۔ یہ منصوبہ انہیں نہ صرف اپنی پارٹی کے افراد کے ساتھ شئیر کرنا اور اس پر تبادلہ خیال کرنا چاہئے بلکہ ملک کے عوام کے سامنے بھی اسے پیش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انتخابات میں عوام کیلئے کوئی فیصلہ کرنا آسان ہو ۔ و ہ پس و پیش کی کیفیت سے باہر آئیں اور پورے یقین کے ساتھ اپنے مستقبل کیلئے کوئی فیصلہ کریں۔ زبانی جمع خرچ پر اکتفاء کرنے کی بجائے عملی اقدامات پر توجہ کرتے ہوئے ملک کے عوام کو اعتماد میں لینا چاہئے اور ملک کے عوام نے جو امیدیں ان سے وابستہ ہیں انہیں پورا کیا جاسکے ۔
