کابل: فغان صحافیوں نے طالبان کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد سے تشدد اور من مانی حراست کے ساتھ ساتھ سنسرشپ کو سخت کرنے سمیت سرکاری اہلکاروں کی طرف سے بدسلوکی کے سینکڑوں واقعات کی اطلاع دی ہے۔صحافیوں کا کہنا ہے کہ انہیں عسکریت پسند گروپوں کے حملوں کی خبریں شائع کرنے یا خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کے بارے میں لکھنے کیلئے اکثر گرفتار کرلیا جاتا ہے اور کچھ رپورٹوں کے مطابق انہیں داعش کے عسکریت پسندوں کے ساتھ ہی جیل کی کوٹھریوں میں رکھا جاتا ہے۔شمالی افغانستان سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی، جنہیں حال ہی میں حراست میں لیا گیا تھا اور مارا پیٹا گیا تھا، نے کہاکہ کسی اور پیشے کی اتنی تذلیل نہیں کی جاتی۔