طالبان خواتین پرلگائی پابندیاں فوراًواپس لیں:سلامتی کونسل

   

نیویارک : اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تمام 15 اراکین کی طرف سے متفقہ طور پر منظور کردہ قرارداد میں کہا گیا ہیکہ اپریل میں طالبان کی طرف سے اعلان کردہ پابندیاں ’انسانی حقوق اور انسانی اصولوں کو مجروح‘کرتی ہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعرات کو اتفاق رائے سے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں بالخصوص اقوام متحدہ کے اداروں کیلئے کام کرنے والی افغان خواتین پر طالبان کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں کی مذمت کی گئی ہے اور طالبان حکام پر زور دیا گیا ہیکہ خواتین کیخلاف پابندیوں کے تمام اقدامات کو فوراً واپس لیں۔سلامتی کونسل کے تمام 15 اراکین کی طرف سے متفقہ طور پر منظور کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہیکہ اپریل کے اوائل میں طالبان کی جانب سے اعلان کردہ پابندیاں ’’انسانی حقوق اور انسانی اصولوں کو مجروح کرتی ہیں‘‘۔سلامتی کونسل نے طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان پالیسیوں اور طریقوں کو فوراً تبدیل کیا جائے جو خواتین اور لڑکیوں کے انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں سے استفادہ کرنے پر قدغن لگاتے ہیں۔اس قرارداد میں تعلیم، ملازمت، نقل وحرکت کی آزادی اور عوامی زندگی میں خواتین کی مکمل، مساوی اور بامعنی شرکت تک رسائی کا ذکر کیا گیا ہے۔