طلاق ثلاثہ بل کی منظوری کے پس منظرمیں

   

اسلام کے احکام وقوانین صحت مندانہ طرززندگی کا انتخاب سکھاتے ہیں،خلاق عالم نے ایسے بھرپوراور جامع ہدایات عطافرمائی ہیں جوانسانی زندگی کے سارے گوشوں کا احاطہ کرتی ہیں،مسلمان اس دنیا میں جہاں کہیں رہتے ہوں وہ ان کوعزیزرکھتے ہیں۔ہونا تویہ چاہئے کہ سارے انسان کسی ذہنی تحفظ کے بغیراسلام کے نظام فطرت کوقبول کریں ،اسی میں ان کی دوجہاں کی کامیابی وبھلائی کا رازمضمر ہے،وحی الہی کی روشنی سے محرومی دراصل سچائی وصداقت سے محرومی ہے،یہ محرومی انسان کوخالق فطرت کی رحمتوں کے سائبان سے دورکردیتی ہے اوروہ افراط وتفریط میں مبتلاء ہوجاتاہے اورقدم قدم پرایسی ٹھوکریں کھاتا ہے کہ سنبھل نہیں پاتا۔مقصدزندگی کوبھول بھال کرزندگی گزارنے والا کبھی سرخرونہیں ہوسکتا نہ دنیا میں اورنہ آخرت میں،انسان اپنی زندگی کا مالک نہیں ہے کہ وہ جیسے چاہے اسے گزارے،مسلمان کرئہ ارض کے مختلف حصوں میں فروکش ہیں اوروہ اپنی زندگی کا سفروحی الہی کی روشنی میں طے کرتے ہیں۔وہ جو کائنات عالم میں غوروفکرنہیں کرتے اسلام کی حقانیت وصداقت کوقبول نہ کرکے اسلام کے پیغام رحمت سے محروم رہناچاہتے ہیں جیسی چاہیں زندگی گزاریں ان کا اختیارہے ،اسلام ان پرجبر کرنے کوپسندنہیں کرتا لیکن مسلمان حکمت وموعظت کے ساتھ پیغام توحیدورسالت انسانیت تک پہنچانے سے ہرگزگریزنہیںکرسکتے ۔مسلمان اس نصب العین کے پابندہیں اوراس میں کامیابی کیلئے درمندی وفکرمندی کے ساتھ کوششِ پیہم اور دعائوں کیلئے سجدہ ریزی اور آہِ سحرگاہی سے بھی غفلت نہیں برت سکتے، مسلمان دنیا کے کسی ایک ملک یا شہرتک محدودنہیں ہیں بلکہ وہ تو دنیا بھرکے مسلم ممالک کے علاوہ کئی ایک جمہوری ممالک میں فروکش ہیں اورہرجگہ اسلام کے ایک نمائندہ فردکی حیثیت سے اپنی شناخت وپہچان رکھتے ہیں، دیگراقوام کی طرح مسلم قوم کی جان ومال ،عزت وآبرو،اس کے مذہبی افکارواعتقادات اوراس کے مذہبی مقدسات کی حفاظت اقوام متحدہ سے منظورہ قوانین کی روشنی میںطے شدہ ہے۔ہندوستان بھی ایک جمہوری ملک ہے جس کی آزادی میں مسلمانوں نے فراخدلانہ اندازمیں جان ومال کی قربانیاں دی ہیں،یہ کہا جائے توبیجانہ ہوگاکہ دوسروں سے زیادہ مسلمانوں نے آزادی کی جدوجہدمیں نمایاں کردار اداکیاہے۔اس پس منظرمیں ہندوستان کا دستور جو تحفظات اوروں کے ساتھ مسلمانوں کودیتا ہے وہ سب کی طرح مسلمانوں کا آئینی حق ہے۔وقفہ وقفہ سے اس حق سے مسلمانوں کومحروم کرنے کی سازش کرنا اورمسلمانوں کے مذہبی احکام وقوانین میں مداخلت کرنا گویا دستورکی دھجیاں بکھیردینا ہے اوردستوری حقوق سے ان کومحروم کرنا ہے جو جمہوری ملک کے ذمہ داروں کو ہرگز زیبا نہیں۔ اگروہ ظلم وجورپرہی آمادہ ہوں اورعدل وانصاف سے آنکھیں موندلینا چاہتے ہوں تومسلم اقلیت کودستوری اعتبارسے ان کا ہاتھ تھامنے ،صحیح راہ دکھانے اورنہ ماننے پرقانون کے اعلی اداروں کا دروازہ کھٹکھٹانے کا حق حاصل ہے۔

اس وقت سیکولرملک ہندوستان کے سربرآوردہ اصحاب نے اسلام کے عائلی قوانین (مسلم پرسنل لاء)میں صریح مداخلت کا راستہ اختیارکرلیا ہے،چنانچہ موجودہ حکومت نے نارواسیاسی ہتھکنڈے اختیارکرکے ’’طلاق ثلاثہ بل ‘‘ منظور کروالیا ہے۔ جبکہ ننانوے فیصد سے بھی زائد مسلم خواتین نے اس بل کے خلاف دستخطی مہم میں حصہ لیکر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے ، یہاں تک کہ مسلم خواتین جو بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنے کو پسند نہیں کرتیں وہ اس بل کے خلاف اپنا احتجاج درج کروانے کیلئے سڑکوں پر نکل آئیں ، برملا انہوں نے اس بل کو واپس لینے کی مانگ کرتے ہوئے اس بات کا کھلے عام اعلان کیا کہ اسلام نے جو حقوق وتحفظات ان کو دیئے ہیں وہ ان سے خوش اور مطمئن ہیں ،پھر بھی نمائشی ہمدردی جتاتے ہوئے اس بل کو منظور کروالیا گیا ہے تو اس کو کوئی قابل تعریف اقدام نہیں کہاجاسکتاکیونکہ اس کی وجہ ملک کا سیکولرکردارمجروح ہوچکا ہے۔ مسلم خواتین سے ہمدردی کا دردوغم آخران کے دل میں کیوں اُمڈآیا ہے ،بیچاری ہماری غیرمسلم بہنوں کا آخرکیا قصورہے ان کی فکرکیوں دامنگیرنہیں ہے؟ایک اخباری اطلاع کے مطابق غیرمسلم بہنوں سے متعلق آٹھ سال قبل کئے گئے سروے کی ایک رپورٹ سے تخمینی ایسی ۲۴؍لاکھ ہندوبہنوں کا معاملہ سامنے آیا ہے جن کے ظالم شوہروں نے ان پرمظالم ڈھاکربے سہارا چھوڑدیا ہے اوراب آٹھ سال کے اس عرصہ میں ایسی مظلوم ہندوبہنوں کی تعدادمیں پتہ نہیں کتنا اضافہ ہوگیا ہوگا،ان کی مظلومیت پرآخرآنکھیں کیوں خشک ہوگئی ہیں اورمسلم خواتین کی ہمدردی میں آخرکیوں آنسوبہائے جارہے ہیں؟جبکہ مسلم خواتین پہلے ہی سے اسلام کی حفاظت کے حصارمیں محفوظ ومطمئن ہیں۔مسلم سماج میں آبادی کے تناسب سے طلاق کے واقعات نادراورگنے چنے ہیں،طلاق ثلاثہ کا تناسب تواوربھی بہت کم ہے جوقابل لحاظ نہیں،ایک تحقیقی جائزہ کے مطابق طلاق کے واقعات صفر اعشاریہ پانچ فیصد(0.5)اور طلاق ثلاثہ کے واقعات صفر اعشاریہ ایک فیصد (0.1) ہیں ۔ گزرے دو سالوں میں تین طلاق کے صرف چار سو تہتر (۴۷۳)واقعات سامنے آئے ہیں،ارباب حکومت کے دوہرے معیارات کاپتہ اس بات سے چلتاہے کہ سبری مالا مندرمیں عورتوں کے داخلہ پر امتناع آستہا(عقیدہ) کی بنیاد پر روا ہے ، لیکن مسلم خواتین کے حق میں طلاق ثلاثہ کا مسئلہ آستہا کی بنیاد پر بھی ناروا ہے ۔اس وقت حکمرانوں کے تیور بتارہے ہیںکہ اس ملک میں وہ جو چاہیں گے وہی ہوگا،ایسے محسوس ہوتا ہے کہ دستور کاتحفظ اور ملک کے سیکولر کردارکی حفاظت ان کے ہاں کوئی معنی نہیں رکھتے، اس سے صرف نظر کرلیا جائے تو پھر یہ بات ضرور کہی جاسکتی ہے کہ حکومت کے کارپردازوں اور بعض ارباب عقل ودانش کا اسلام کے قوانین طلاق پر اعتراض دراصل اس کے مصالح سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے ، ان کوجان لیناچاہئے کہ اسلام ہی وہ واحدمذہب ہے جس نے خواتین کے احترام اوران کے حقوق کوبڑی اہمیت دی ہے۔’’ اورجیسے عورتوں پرمردوں کے حقوق ہیں ایسے ہی مردوں پربھی عورتوں کے حقوق ہیں،البتہ مردوں کوعورتوں پر ایک گونہ فضیلت حاصل ہے‘‘(البقرہ:۱۲۸) جان ومال ، عزت وآبروکا تحفظ،عزت واحترام ایک دوسرے کے جذبات واحساسات کا پاس ولحاظ اسلام نے زوجین کے درمیان یکساں رکھا ہے۔عام انسانی حقوق میں دونوں مساوی ہیں البتہ مردکو جوفضیلت دی گئی ہے وہ صدرخاندان کی حیثیت سے ہے،اوریہ فوقیت بھی ان کی تخلیقی فرق وامتیازکی بناء پر ہے،چونکہ خالق فطرت نے دونوں کی فطری صلاحتیں ،ان کی طبعی ضرورتیں اوران کے فرائض وذمہ داریاں بھی جداجدارکھی ہیں۔اسلام میں طلاق کوئی پسندیدہ کام نہیں ہے اورنہ اسلام نے اس کی کوئی حوصلہ افزائی کی ہے بلکہ ناموافق حالات میں یہ ایک ناگزیرضرورت ہے اس لئے ہر سلیم الفطرت انسان اس ضرورت کا انکارنہیں کرسکتا۔حالات ناموافق ہوں اورطبائع کے اختلاف سے ان کی زندگی کا چین وسکون چھن گیا ہو،آپسی نباہ کی دوردورتک کوئی صورت دکھائی نہ دے رہی ہوتوآخری چارئہ کارکے طورپرطلاق کا راستہ اختیارکیا جاسکتا ہے۔اب رہا بیک وقت تین طلاق کا استعمال بیک لفظ ہویا متفرق،اسلام کے متفرق مسالک جن کا فروعی مسائل میں نصوص کی بنیاد پراختلاف ہے ان کے ہاں اس کے ناپسندہ ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ان جیسے مسائل میں حکومت کوئی قانون بنانا چاہتی ہے تواس کوچاہئے کہ وہ ماہرین اسلامی قانون سے رجوع کرے اوروہ جورائے دیں اس کا احترام کرے، ملک کو موجودہ انتشار سے نکالنے کی ایک ہی راہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کا راستہ ترک کرے، دستورمیں دئیے گئے تحفظات پرعمل کو بہرصورت یقینی بنائے۔اس پر سنجیدہ غور وفکر اور مثبت اقدام ہی سے ملک کا سیکولر کردار محفوظ رہ سکتا ہے ،ملک میں امن وآمان کا قیام اور ملک کی ترقی اور نیک نامی کا راستہ ہموار ہوسکتا ہے ۔