فیس ری ایمبرسمنٹ، تقررات اور بیروزگاری الاؤنس کامطالبہ، ریونت ریڈی کی پدیاترا سے آغاز
حیدرآباد۔/29 ستمبر، ( سیاست نیوز) ریاست میں دلت اور گریجن طبقات کے جلسوں کی کامیابی کے بعد کانگریس نے 2 اکٹوبر سے 9 ڈسمبر تک طلباء اور بے روزگار نوجوانوں کیلئے جدوجہد کا اعلان کیا ہے۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے پارٹی کے سینئر قائدین محمد علی شبیر اور مہیش کمار گوڑ کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 65 دن پر محیط یہ جدوجہد’’ طلباء اور بے روزگاروں کی جنگ ‘‘ کے عنوان سے ہو گی۔ مختلف اضلاع میں طلباء اور نوجوانوں کے پروگرام منظم کئے جائیں گے اور 9 ڈسمبر کو بڑا جلسہ عام منعقد کیا جائے گا۔ ریونت ریڈی نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران نوجوانوں سے کئے گئے وعدوں کو فراموش کردیا گیا ہے۔ جن نوجوانوں نے تلنگانہ کیلئے اپنی جان کی قربانی دی ان کی قربانیوں کو رائیگاں کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 2 اکٹوبر کو دلسکھ نگر چوراہا سے ایل بی نگر تک پدیاترا منظم کی جائے گی اور تلنگانہ تحریک کے پہلے شہید نوجوان سریکانت چاری کو خراج پیش کیا جائے گا اس کے علاوہ ایل بی نگر چوراہا پر راجیو گاندھی مجسمہ کی تنصیب کی کارروائی شروع کی جائے گی۔ کانگریس دور حکومت میں راجیو گاندھی کا مجسمہ نصب کیا گیا تھا لیکن ٹی آر ایس حکومت نے میٹرو ریل پراجکٹ کے نام پر مجسمہ کو نکال دیا۔ ریونت ریڈی نے بتایا کہ روزگار اور مفت تعلیم جیسے وعدوں کو کے سی آر حکومت نے فراموش کردیا ہے ۔ ٹی آر ایس کے برسراقتدار آنے کے بعد 4000 اسکولس بند کردیئے گئے۔ کے جی تا پی جی مفت تعلیم اور فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیمات کانگریس دور حکومت میں شروع کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت کئی برسوں سے فیس ری ایمبرسمنٹ کے بقایا جات جاری کرنے سے گریز کررہی ہے جو تقریباً 4 ہزار کروڑ ہیں۔ بے روزگار نوجوانوں کو ماہانہ الاؤنس کا وعدہ کیا تھا لیکن آج تک اس وعدہ پر عمل نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت ہر بے روزگار نوجوان کو ایک لاکھ روپئے کی ادائیگی باقی ہے۔ تلنگانہ میں 60 لاکھ گریجویٹ بے روزگار ہیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ فیس ری ایمبرسمنٹ، بے روزگاری الاؤنس اور تقررات کیلئے جاب کیلنڈر کی اجرائی کے مطالبات کے تحت کانگریس پارٹی نے طلباء اور نوجوانوں کیلئے جنگ کا بگل بجادیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلباء اور نوجوانوں کے علاوہ کمزور طبقات اور دلتوں نے ٹی آر ایس حکومت کو بیدخل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 50 ہزار جائیدادوں پر تقررات کا اعلان تو کیا گیا لیکن پبلک سرویس کمیشن سے نوٹیفکیشن کی اجرائی باقی ہے۔ر