طلباء کے خلاف زیادتیوں پر امیت شاہ مستعفی ہوں ‘ نیہا بورا

   

دہلی پولیس کمشنر کا تبادلہ کیا جانا چاہئے ۔ آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن کی صدر کا بیان

نئی دہلی ۔ یکم اگسٹ ( ایجنسیز ) دہلی میں پیپر لیک کے خلاف 20 جولائی کو احتجاج کے دوران پولیس کارروائیوں پر وزیر داخلہ امیت شاہ سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا نے کہا کہ یہ تحریک اب ایک بڑی مہم میں تبدیل ہوگئی ہے کہ پولیس کی کارروائیوں پر مرکز سے جواب طلب کیا جائے ۔ نیہا بورا نے طلباء احتجاج کے دوران 23 دن کی بھوک ہڑتال کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار شدہ احتجاجیوں کی رہائی کی جدوجہد کے ساتھ وزیر داخلہ امیت شاہ کے استعفے اور دہلی پولیس کمشنر انوراگ کمار کے تبادلے کا مطالبہ بھی جاری رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اصل اختیار امیت شاہ کا اور پھر پولیس کمشنر کا ہوتا ہے اور اگر کسی کو مستعفی ہونا چاہئے یا برطرف کیا جانا چاہئے تو پھر یہ دو لوگ امیت شاہ اور پولیس کمشنر ہیں۔ ان سے کم کسی عہدہ کے حامل فرد کی بیدخلی کو قبول نہیں کیا جائے گا ۔ 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کے دوران پیلٹ گن اور ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال پر انہوں نے کہا کہ حکومت یہ وضاحت کرنے میں ناکام رہی ہے کہ اس نے سکیوریٹی اہلکاروں کو پیلٹ گن اور نوکدار کیلے لگی ہوئی لاٹھیاں کیوں فراہم کی تھیں۔ نیہا بورا نے کہا کہ ہم اب بھی جواب طلب کر رہے ہیں کہ پیلٹ گن کیوں استعمال کئے گئے تھے ۔ سکیوریٹی اہلکاروں کو کیوں یہ گن فراہم کئے گئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی مجسٹریٹ یا سینئر اتھاریٹیز کی جانب سے بھی اس کارروائی کے احکام جاری کئے گئے تھے تب بھی سیاسی ذمہ داری امیت شاہ پر عائد ہوتی ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر سب کچھ کسی مجسٹریٹ کے حکم پر ہوتا ہے تو پھر وہ کس طرح کے وزیر داخلہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی مسائل کو اٹھائیں ۔ انہوں نے کانگریس کے بشمول دیگر جماعتوں کی طلباء احتجاج کو تائید کا خیرمقدم کیا ۔