طلبہ کی کامیابی میں اساتذہ کی محنت و رہنمائی کا اہم رول

   

Ferty9 Clinic

مدینہ کالج کی سلور جوبلی تقاریب ، وزیر داخلہ محمد محمود علی کا خطاب

حیدرآباد۔/7ستمبر، ( سیاست نیوز) وزیر داخلہ محمد محمود علی نے کہا کہ کسی بھی انسان کی کامیابی کے پس پردہ اساتذہ کی محنت کا اہم رول ہوتا ہے۔ اساتذہ کی محنت اور رہنمائی سے طلبہ کامیابی کی منزلیں طئے کرتے ہیں۔ وزیر داخلہ آج مدینہ ڈگری اینڈ پی جی کالج کی سلور جوبلی تقاریب سے خطاب کررہے تھے۔ مدینہ ایجوکیشن اینڈ ویلفیر سوسائٹی کی جانب سے تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ حیدرآباد میں مدینہ اسکول اور کالجس اپنے تعلیمی معیار اور ڈسپلن کیلئے خصوصی شناخت رکھتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ سے کہا کہ وہ خوش نصیب ہیں جنہیں تعلیم کے حصول کیلئے آج بے شمار سہولتیں دستیاب ہیں جو کہ سابق میں دستیاب نہیں تھیں۔ ہم نے اپنے دور میں کم وسائل کے باوجود تعلیم حاصل کی۔ محمود علی نے کہا کہ طلبہ کو تعلیم کے حصول پر توجہ دیتے ہوئے خوب محنت کے ذریعہ اعلیٰ تعلیم میں اپنے والدین اور اساتذہ کا نام روشن کرنا چاہیئے۔ دور حاضر میں صرف تعلیم کا حصول ہی کافی نہیں بلکہ دیگر شعبوں میں مہارت بھی حاصل کرنی چاہیئے۔ آج کادور سخت مسابقت کا ہے۔ اس مسابقتی دور میں صرف محنت ہی کامیابی سے ہمکنار کرسکتی ہے۔ انہوں نے اداروں کے سکریٹری کے ایم عارف الدین کو مبارکباد پیش کی اور تلنگانہ تحریک کے دوران ان کی خدمات کو یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں مسلم اقلیت کیلئے صرف 12 اقامتی اسکول قائم کئے گئے تھے جبکہ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد محض 4 برسوں میں کے سی آر نے 204 اقامتی اسکولس قائم کئے جن میں تمام تر عصری سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں۔ اقلیتی بہبود کے معاملہ میں تلنگانہ ملک بھر میں مثال بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی طلبہ کو بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے اوورسیز اسکالر شپ کے تحت 20لاکھ روپئے فراہم کئے جارہے ہیں۔ ہر سال 100 اقلیتی طلبہ کو سرکاری خرچ پر سیول سرویسیس کی کوچنگ دی جارہی ہے۔ محمود علی نے اقلیتوں سے اپیل کی کہ وہ حکومت کی اسکیمات سے بھرپور استفادہ کریں۔ انہوں نے لڑکیوں کی تعلیم کی اہمیت کو اُجاگر کیا اورکہا کہ ایک فرد کی تعلیم صرف فرد تک محدود رہتی ہے جبکہ ایک لڑکی کی تعلیم سارے خاندان کی تعلیم کے مترادف ہے۔ مسلم سماج سے ناخواندگی کے خاتمہ کیلئے لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ کی جانی چاہیئے۔ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ عصری علوم کے ساتھ دینی تعلیم اور اپنی مادری زبان اردو کو اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ اردو میں دین کا سرمایہ موجود ہے۔