عازمین حج کی 95 فیصد درخواستوں کی منظوری کا امکان

,

   

محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔24جنوری۔ حج کمیٹی آف انڈیا کو موصول ہونے والی عازمین حج کی 95 فیصد درخواستوں کو منظوری حاصل ہونے کے امکانات ہیں ۔ حکومت ہند اور سعودی عرب کے درمیان معاہدہ کے مطابق ہندستان کیلئے سعودی عرب نے 1لاکھ 75 ہزار25 عازمین کا کوٹہ مختص کیا ہے اور حج کمیٹی آف انڈیا کو جملہ 1لاکھ 74 ہزار درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ ہندوستان کو حاصل ہونے والے کوٹہ میں 1لاکھ40ہزار 20عازمین کا محفوظ کوٹہ حج کمیٹی کے توسط سے روانہ ہونے والے عاز مین کیلئے مختص ہے جبکہ 35ہزار5 عازمین حج کا کوٹہ خانگی ٹور آپریٹرس کیلئے رکھا گیا ہے۔ کئی عازمین حج اپنے سفر حج کو منسوخ کرلیتے ہیں یا پھر درخواست کے ادخال کے بعد اپنا ارادہ ترک کردیتے ہیں۔ اس مرتبہ ملک بھر سے جو درخواستیں وصول ہوئی ہیں وہ 1لاکھ 74ہزار ہیں اور حج کمیٹی کے پاس جملہ 1لاکھ 40ہزار نشستیں موجود ہیں۔ اگر حج کمیٹی آف انڈیا میں داخل کی گئی درخواستوں میں 30 ہزار عازمین بھی اپنے سفر مقدس کا ارادہ ترک کرتے ہیں تو مابقی تمام درخواست گذاروں کو حج کمیٹی کے ذریعہ حج بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوسکتی ہے ۔ ذرائع کے مطابق سب سے زیادہ درخواستیں مہاراشٹرا سے موصول ہوئی ہیں جن کی تعداد 25500 ہے جبکہ دوسرے نمبر پر کیرالا ہے جہاں سے 25ہزار200 درخواستیں وصول ہوئی ہیں۔ گجرات سے جملہ 20 ہزار 700 درخواستیں داخل کی گئی ہیں جبکہ اترپردیش سے 20ہزار500 درخواستیں داخل کی گئی ہیں۔ کرناٹک سے محض 14000 درخواستیں داخل کی گئی ہیں اور تلنگانہ سے 11ہزار500 درخواستیں حج کمیٹی میں داخل کی گئی ہیں۔ دہلی سے 2500 خواہشمندوں نے حج بیت اللہ کیلئے درخواستیں داخل کی ہوئی ہیں۔ جموں کشمیر میں ریاست کیلئے مختص کوٹہ سے کم درخواستوں کی وصولی کے سبب قرعہ اندازی کی ضرورت بھی باقی نہیں رہی کیونکہ جموں و کشمیر کیلئے مرکزی حج کمیٹی کی جانب سے مختص کیا گیا کوٹہ 9000 ہے جبکہ ریاست سے حج 2024 کیلئے محض 7000درخواستیں وصول ہوئی ہیں۔ حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے مغربی بنگال ‘ اترپردیش ‘ بہار اور اتر پردیش کے علاوہ دیگر ریاستوں میں جہاں سے کم درخواستیں وصول ہوئی ہیں اس کوٹہ کو مساوی طور پر تقسیم کرتے ہوئے تمام ریاستوں کے ساتھ انصاف کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں تلنگانہ حج کمیٹی سے درخواست داخل کرنے والے بیشتر عازمین حج کے سفر حج کو کمیٹی کے توسط سے یقینی بنایا جاسکتا ہے۔