عامر شکیل فرقہ پرستوں کیلئے کھٹکنے لگے ہیں

   

اضلاع سے اسمبلی میں واحد مسلم نمائندگی ، زعفرانی گینگ اسمبلی حلقہ بودھن میں سرگرم
حیدرآباد ۔ یکم ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے رکن اسمبلی و بودھن کے امیدوار عامر شکیل فرقہ پرستوں کے لیے کھٹکنے لگے ہیں انہیں شکست دینے کے لیے زعفرانی طاقتیں متحد ہوگئی اور ان کے خلاف گمرہ کن مہم چلا رہے ہیں ۔ ریاست کے 119 اسمبلی حلقوں میں اضلاع سے اسمبلی میں نمائندگی کرنے والے عامر شکیل واحد مسلم رکن اسمبلی ہیں جنہیں عوام نے مذہب اور ذات پات سے بالاتر ہو کر کامیاب بنایا ہے ۔ بی آر ایس کے سربراہ و چیف منسٹر کے سی آر نے انہیں تیسری مرتبہ امیدوار بنایا ہے ۔ ریاست میں ڈبل انجن سرکار کا خواب دیکھنے والی بی جے پی کو عامر شکیل کھٹکنے لگے ہیں ۔ بالخصوص نظام آباد حلقہ لوک سبھا کی نمائندگی کرنے والے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ڈی اروند نے سیاسی مفاد پرستی کے لیے ضلع نظام آباد میں نفرت کا ماحول پیدا کردیا ہے اور ہر مسئلہ کو ہندو مسلم سے جوڑتے ہوئے اکثریتی طبقہ کے ووٹوں کو متحد کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ اس کے علاوہ آر ایس ایس کے علاوہ دوسری زعفرانی جماعتوں کی جانب سے ضلع نظام آباد بالخصوص اسمبلی حلقہ بودھن پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے شمالی ہند کی سیاست کو فروغ دینے کی کوشش کررہے ہیں ۔ اسمبلی حلقہ بودھن میں اقلیتی ووٹ فیصلہ کن ہیں ۔ تمام اقلیتیں سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر نظریاتی اختلافات کو فراموش کرتے ہوئے تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں اضلاع سے جو مسلم نمائندگی ہے اس کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں ۔ مختلف مذہبی اور رضاکارانہ تنظیمیں بھی عامر شکیل کو کامیاب بنانے سرگرم ہوگئی ہیں ۔ بڑے بڑے اجلاس منعقد کرنے کے بجائے بند کمروں میں مشاورتی اجلاس منعقد کرتے ہوئے فرقہ پرستںو کی سازش کو ناکام بنانے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں ۔ چیف منسٹر کی دختر و رکن قانون ساز کونسل کے کویتا اسمبلی حلقہ بودھن میں عامر شکیل کو کامیاب بنانے کے لیے کافی سرگرم ہیں ۔ وہ پارٹی کے مقامی قائدین سے رابطہ پیدا کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کی سیاسی حکمت عملی کو مات دینے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں ۔ ساتھ ہی پارٹی کے قائدین کو پوری طرح متحرک کردیا گیا ہے ۔۔ ن